اسرار الحق مجاز اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑا ہوا ہے کہ ایک کے ذکر کے بغیر دوسرے کا تذکرہ نامکمل معلوم ہوتا ہے۔ آل احمد سرور کی یادداشتوں کے مطابق، مجاز کا علی گڑھ سے تعلق محض ایک طالب علم کا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک گہرے جذباتی اور تہذیبی رشتے کی بنیاد تھا۔ مجاز نے جب ۱۹۳۲ء میں علی گڑھ میں قدم رکھا، تو وہ سائنس کے طالب علم تھے، مگر ان کی اصل منزل ادب اور شاعری تھی۔
علی گڑھ کی فضا، دوستوں کی محفلیں، اور یونیورسٹی کے مشاعرے مجاز کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ شروع میں جب انہوں نے انجمن حدیقۃ الشعر کے مشاعرے میں اپنی نظم 'صبح بہار' پڑھی تو انہیں ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑا، مگر جلد ہی ان کی شاعری کی رنگینی اور ان کے پرسوز ترنم نے طلبہ کے دل موہ لیے۔ یہیں سے مجاز کی مقبولیت کا وہ سفر شروع ہوا جس نے انہیں نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بنا دیا۔
مجاز کی علی گڑھ سے محبت کا سب سے شاندار اظہار ان کی نظم 'نذرِ علی گڑھ' میں ہوتا ہے۔ ۱۹۳۶ء میں جب علی گڑھ میں اردو کانفرنس منعقد ہوئی، تو مجاز کی ملازمت ختم ہو چکی تھی اور وہ بے روزگار تھے۔ اسی کانفرنس کے دوران جب انہوں نے اپنی دلنشیں آواز میں 'نذرِ علی گڑھ' پڑھنا شروع کی، تو مجمع پر ایک بے خودی سی چھا گئی۔ یہ نظم محض ایک ادارے کی تعریف نہیں تھی، بلکہ یہ علی گڑھ کی تہذیبی عظمت، اس کی روشن خیالی اور اس کے آفاقی پیغام کا ایک سحر انگیز ترانہ تھا۔
جو طاقِ حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہے
اس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہے
ہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شبِ شیراز یہاں
ہے سارے جہاں کا سوز یہاں ہے سارے جہاں کا ساز یہاں
اس نظم کا ایک شعر تو ایسا تھا جس نے اس وقت کے اربابِ حل و عقد اور ناقدین کو ایک مسکت جواب دیا جو علی گڑھ کے طلبہ پر بغاوت اور نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے تھے۔ جب مجاز نے یہ شعر پڑھا تو ڈائس پر موجود ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے اکابرین بھی جھوم اٹھے اور بے ساختہ داد دی:
آ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہے
پھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہے
یہ نظم آج بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ترانہ ہے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے علیگ برادری کے دلوں کو گرماتی ہے۔ مجاز نے اس نظم کے ذریعے ایک تعلیمی ادارے کو جو رومانوی اور تہذیبی تقدس بخشا ہے، وہ اردو ادب کی تاریخ میں بے مثال ہے۔ مجاز کی آخری خواہشات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ علی گڑھ جا کر طلبہ کے کنونشن میں شرکت کریں اور اپنا یہ ترانہ سنیں، اور یہی ان کا آخری سفر بھی ثابت ہوا۔
