گئے ہیں وقت کے ہاتھوں کہاں کہاں کے چراغ
گئے ہیں وقت کے ہاتھوں کہاں کہاں کے چراغ
جو کل زمین کے تھے اب ہیں آسماں کے چراغ
سفینہ غرق ہوا کانپ اٹھے نشاں کے چراغ
بجھا کے رکھ دیے موجوں نے بادباں کے چراغ
سمجھ سکے نہ طلسم حیات کا اندھیر
پلک جھپکتے ہی گل ہو گئے جہاں کے چراغ
نہ جانے کس لیے خوں ریز رزم گاہ میں وہ
جلا جلا کے بجھاتے ہیں امتحاں کے چراغ
نسیم شوق کی رفتار حشر خیز نہ پوچھ
لرز رہے ہیں نگاہوں میں آسماں کے چراغ
کچھ اور تیز چلا قافلہ جوانی کا
وہ دور سے نظر آتے ہیں کارواں کے چراغ
منیرؔ تھوتھنی جن کی نہ چونچ سیدھی ہے
وہ بے زباں بھی جلاتے ہیں اب زباں کے چراغ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.