Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گئے ہیں وقت کے ہاتھوں کہاں کہاں کے چراغ

منیر آرزو

گئے ہیں وقت کے ہاتھوں کہاں کہاں کے چراغ

منیر آرزو

MORE BYمنیر آرزو

    گئے ہیں وقت کے ہاتھوں کہاں کہاں کے چراغ

    جو کل زمین کے تھے اب ہیں آسماں کے چراغ

    سفینہ غرق ہوا کانپ اٹھے نشاں کے چراغ

    بجھا کے رکھ دیے موجوں نے بادباں کے چراغ

    سمجھ سکے نہ طلسم حیات کا اندھیر

    پلک جھپکتے ہی گل ہو گئے جہاں کے چراغ

    نہ جانے کس لیے خوں ریز رزم گاہ میں وہ

    جلا جلا کے بجھاتے ہیں امتحاں کے چراغ

    نسیم شوق کی رفتار حشر خیز نہ پوچھ

    لرز رہے ہیں نگاہوں میں آسماں کے چراغ

    کچھ اور تیز چلا قافلہ جوانی کا

    وہ دور سے نظر آتے ہیں کارواں کے چراغ

    منیرؔ تھوتھنی جن کی نہ چونچ سیدھی ہے

    وہ بے زباں بھی جلاتے ہیں اب زباں کے چراغ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے