وہ خوش کلام کبھی گیان بانٹتا ہی نہیں
وہ خوش کلام کبھی گیان بانٹتا ہی نہیں
کہ فیصلہ تو کجا کوئی مشورہ ہی نہیں
میں خاک زاد ترے ہجر سے ہوا سرشار
مرے نصیب میں تیرا وصال تھا ہی نہیں
تمہارا عشق سلامت ہے تم کو کیا معلوم
تمہارے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہی نہیں
کوئی دعا بھی نہ مقبول ہو سکی میری
کوئی چراغ مرا دیر تک جلا ہی نہیں
بہت سے لوگ مری کھوج میں پڑے ہوئے ہیں
کچھ ایسے لوگ مرا جن سے واسطہ ہی نہیں
تمازتوں کے سبھی کرب جھیل کر جانا
چراغ ہونے کا مطلب فقط دیا ہی نہیں
میں رات پچھلے پہر خود کلام ہوتا ہوں
یہ بھید وہ ہے جو تجھ پر کبھی کھلا ہی نہیں
ابھی یہ حسن کی بارش برستی رہنے دے
مری نگاہ کا برتن ابھی بھرا ہی نہیں
مکالمے کا ہنر مجھ سے چھن گیا جامیؔ
مرے وجود میں ایسا سکوت تھا ہی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.