Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ خوش کلام کبھی گیان بانٹتا ہی نہیں

محمد مستحسن جامی

وہ خوش کلام کبھی گیان بانٹتا ہی نہیں

محمد مستحسن جامی

MORE BYمحمد مستحسن جامی

    وہ خوش کلام کبھی گیان بانٹتا ہی نہیں

    کہ فیصلہ تو کجا کوئی مشورہ ہی نہیں

    میں خاک زاد ترے ہجر سے ہوا سرشار

    مرے نصیب میں تیرا وصال تھا ہی نہیں

    تمہارا عشق سلامت ہے تم کو کیا معلوم

    تمہارے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہی نہیں

    کوئی دعا بھی نہ مقبول ہو سکی میری

    کوئی چراغ مرا دیر تک جلا ہی نہیں

    بہت سے لوگ مری کھوج میں پڑے ہوئے ہیں

    کچھ ایسے لوگ مرا جن سے واسطہ ہی نہیں

    تمازتوں کے سبھی کرب جھیل کر جانا

    چراغ ہونے کا مطلب فقط دیا ہی نہیں

    میں رات پچھلے پہر خود کلام ہوتا ہوں

    یہ بھید وہ ہے جو تجھ پر کبھی کھلا ہی نہیں

    ابھی یہ حسن کی بارش برستی رہنے دے

    مری نگاہ کا برتن ابھی بھرا ہی نہیں

    مکالمے کا ہنر مجھ سے چھن گیا جامیؔ

    مرے وجود میں ایسا سکوت تھا ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے