دل تو ہے دل دار نہیں ہے
دل تو ہے دل دار نہیں ہے
روح تبھی سرشار نہیں ہے
منزل تک بھی جا سکتا ہوں
رستہ بھی دشوار نہیں ہے
دیکھ سہولت سے بچھڑے ہیں
اور کوئی تکرار نہیں ہے
دنیا میں بھی دل نہیں لگتا
وحشت بھی درکار نہیں ہے
وہ بھی دشت نورد ازل کا
میرا بھی گھر بار نہیں ہے
عشق بنا تم مر جاؤ گے
یہ میرا انکار نہیں ہے
دل دروازہ بند نہ کرنا
یہ مسند بے کار نہیں ہے
وہ جس حال میں رکھے جامیؔ
میرا کچھ اصرار نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.