ایسا کرنا دل بیدار نہ ویسا کرنا
ایسا کرنا دل بیدار نہ ویسا کرنا
جیسے وہ آنکھ کہے اس کو مہیا کرنا
میری وحشت نے سکھائے ہیں سبق جینے کے
مجھ کو آتا ہے مصیبت میں گزارا کرنا
اس کا احساس بھرا لمس ہے درکار ہمیں
دست تقدیر یہی کام ہمارا کرنا
اب تو بس ایک ہی دھن اپنی بنی رہتی ہے
آتے جاتے کسی درویش کو دیکھا کرنا
اپنی مرضی سے وہ کرتا ہے عطائیں جامیؔ
اچھا ہوتا نہیں ہر بار تقاضا کرنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.