اب تو نیندیں حرام کرتے ہیں
اب تو نیندیں حرام کرتے ہیں
زندگی یوں تمام کرتے ہیں
راہ الفت میں دے کے جان حزیں
ہم پس مرگ نام کرتے ہیں
تارے گن گن کے صبح ہوتی ہے
ٹھوکریں کھا کے شام کرتے ہیں
ہوں مصیبت زدہ تو اپنے بھی
دور ہی سے سلام کرتے ہیں
کچھ نہ پوچھو منیرؔ کی حالت
اپنا بدنام نام کرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.