Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اب طاقچے کی دیپ کو خواہش نہیں رہی

تمثیلہ لطیف

اب طاقچے کی دیپ کو خواہش نہیں رہی

تمثیلہ لطیف

MORE BYتمثیلہ لطیف

    اب طاقچے کی دیپ کو خواہش نہیں رہی

    آنکھوں میں سوز دل میں بھی آتش نہیں رہی

    کار جہاں میں ہو گئے مصروف تم بھی جب

    اب فرقتوں سے ہم کو بھی رنجش نہیں رہی

    کیا کوزہ گر سے ہو کسی تخلیق کی امید

    مٹی پہ ہاتھ چاک میں گردش نہیں رہی

    اوڑھی ہے ہم نے جب سے ردائے منافقت

    دشمن کو اب ضرورت سازش نہیں رہی

    دیکھا ہے پنچھیوں کو شکم سیر لوٹتے

    درویش ہوں امید نوازش نہیں رہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے