اب طاقچے کی دیپ کو خواہش نہیں رہی
اب طاقچے کی دیپ کو خواہش نہیں رہی
آنکھوں میں سوز دل میں بھی آتش نہیں رہی
کار جہاں میں ہو گئے مصروف تم بھی جب
اب فرقتوں سے ہم کو بھی رنجش نہیں رہی
کیا کوزہ گر سے ہو کسی تخلیق کی امید
مٹی پہ ہاتھ چاک میں گردش نہیں رہی
اوڑھی ہے ہم نے جب سے ردائے منافقت
دشمن کو اب ضرورت سازش نہیں رہی
دیکھا ہے پنچھیوں کو شکم سیر لوٹتے
درویش ہوں امید نوازش نہیں رہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.