اردو غزل کی تاریخ میں میر تقی میر کا اسلوب ایک ایسا سحر انگیز سراب رہا ہے جس کے پیچھے کئی نامور شعراء نے دوڑ لگائی، لیکن بالآخر انہیں اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑا۔ میر کی زبان کا دھیما پن، ان کے لہجے کا حزن اور ان کے تجربے کی سادگی بظاہر اتنی سہل ممتنع لگتی ہے کہ ہر دور کے شاعر کو یہ گمان گزرا کہ وہ بھی اس رنگ میں شعر کہہ سکتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔
استاد ابراہیم ذوق، جو اپنے دور کے قادر الکلام شاعر تھے، انہیں بھی میر کی تقلید میں اپنی بے بسی کا اعتراف ان الفاظ میں کرنا پڑا:
نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
بیسویں صدی میں بھی اتباعِ میر کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ فراق گورکھپوری اور ناصر کاظمی جیسے بڑے شعراء نے میر کے رنگ کو اپنانے کی کوشش کی۔ فراق نے میر کی متروک زبان اور ہندی آمیز محاوروں (جیسے 'نکلیں ہیں'، 'ہولیں ہیں') کا استعمال کر کے میر کی آواز چرانے کی کوشش کی۔ لیکن شمیم حنفی کے بقول، محض ایک آہستہ خرام بحر میں اور پرانی زبان میں شعر کہہ لینے کو رنگِ میر سے تعبیر کرنا شاعری کے مجموعی عمل کے ساتھ زیادتی ہے۔ تقلید اگر بامعنی ہے تو اس کا انحصار گئے وقتوں کے دس بیس محاوروں کے الٹے سیدھے استعمال پر نہیں ہو سکتا۔
اس پس منظر میں جب ہم مرزا غالب کو دیکھتے ہیں تو ان کی تخلیقی عظمت کا راز کھلتا ہے۔ غالب، جو میر کی استادی کے دل سے قائل تھے، انہوں نے کبھی میر کا آہنگ، لہجہ یا زبان اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ غالب جانتے تھے کہ آزمودہ اسالیب میں توسیع کے بغیر تقلید کا کوئی مطلب نہیں نکلتا۔ اگر غالب محض میر کی لغت اور شعریات کے استعمال پر زور دیتے، تو وہ کبھی 'غالب' نہ بن پاتے۔
غالب نے میر کے اسلوب کی ظاہری نقل کرنے کے بجائے، میر کی پوری تخلیقی اور تہذیبی شخصیت کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ سیکھا کہ میر ابتری اور انحطاط کے حوصلہ شکن ماحول میں اپنی تخلیقی شخصیت کا اعتبار کس طرح قائم رکھتے ہیں۔ غالب نے تسلسل سے زیادہ تبدیلی کی خواہش سے سروکار رکھا۔ انہوں نے میر کی روایت کے تتبع کی جگہ اپنی علیحدہ روایت اور شناخت متعین کی۔
ہر بڑا شاعر اپنے پیش رو سے اس طرح استفادہ کرتا ہے کہ تقلید کے عمل میں روایت کا دائرہ وسیع تر ہو جائے اور نئے تجربوں کی گنجائش نکل آئے۔ غالب نے یہی کیا۔ انہوں نے میر کی بنیادوں پر ایک نئی عمارت کھڑی کی۔ یہی وجہ ہے کہ ذوق، فراق اور ناصر کاظمی کی شعوری کوششوں کے باوجود، میر کا سچا اور سب سے بڑا تخلیقی وارث غالب ہی قرار پاتا ہے، جس نے تقلید کے بجائے تخلیقی اجتہاد کا راستہ چنا۔
