اردو شاعری کے تین عظیم ستونوں، میر تقی میر، مرزا غالب، اور علامہ اقبال کا اگر اسلوبیاتی اور صوتیاتی سطح پر تقابلی مطالعہ کیا جائے تو اردو زبان کے ارتقا اور شعری مزاج کے حیرت انگیز پہلو سامنے آتے ہیں۔ ہر بڑے شاعر کا اپنا ایک صوتیاتی نظام ہوتا ہے جو اس کی افتادِ طبع اور شعری مزاج کی تشکیل کرتا ہے۔
میر تقی میر کا پیرایۂ بیان بول چال کی زبان سے بے حد قریب ہے۔ ان کے یہاں درد و سوز، دردمندی اور گھلتے رہنے کی کیفیت ہے۔ اس کیفیت کے اظہار کے لیے میر کے یہاں اردو کی خالص دیسی آوازوں یعنی ہکار (Aspirated) اور معکوسی (Retroflex) آوازوں کا استعمال بہت فطری اور کثرت سے ہوا ہے۔ تجزیے کے مطابق میر کے یہاں فی شعر اوسطاً دو ہکار یا معکوسی آوازیں پائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میر کے یہاں طویل مصوتوں (Long Vowels) کی فراوانی ہے (تقریباً 16 طویل مصوتے فی شعر)، جو ان کی شاعری کو ایک خاص قسم کی نرم لے اور غنائیت عطا کرتی ہے۔
دوسری طرف مرزا غالب ہیں، جنہیں اپنے 'مستعار نقش ہائے رنگ رنگ' اور فارسی دانی پر ناز تھا۔ غالب کا تفکر حزنیہ اور معنی آفرینی پر مبنی ہے۔ انہوں نے اردو شعر کو عجمی لالہ زاروں میں لا کھڑا کیا۔ غالب کے یہاں ہکار اور معکوسی آوازوں کا استعمال میر کی نسبت آدھا (یعنی ایک آواز فی شعر) رہ جاتا ہے۔ وہ 'دل و جگر'، 'زخمِ جگر'، 'غارت گر' جیسے الفاظ پسند کرتے ہیں۔ لیکن غالب کے یہاں طویل مصوتوں کی شدید کمی پائی جاتی ہے (اوسطاً 11 مصوتے فی شعر)۔ غالب کے فنی سانچے مختصر ہیں، جس کی وجہ سے ان کے یہاں وہ نغمگی اور صوتی آہنگ پیدا نہیں ہو پاتا جو میر کے یہاں ہے۔
اب اقبال کی طرف آئیں۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے غالب کی طرح عربی و فارسی لفظیات کا شاندار استعمال کیا، لیکن ہکار اور معکوسی آوازوں کے استعمال کو غالب سے بھی کم (ایک آواز فی شعر سے بھی کم) کر دیا۔ اس کے برعکس، اقبال نے طویل اور غنائی مصوتوں کے استعمال میں میر کی روایت کو اپنایا۔ اقبال کے یہاں بھی میر کی طرح فی شعر اوسطاً 16 طویل مصوتے پائے جاتے ہیں۔
اقبال کی شاعری میں اظہاری وسعت اور ربطِ بیان کی وجہ سے طویل مصوتوں کی فراوانی پیدا ہو گئی ہے۔ جب یہ طویل اور غنائی مصوتے، صفیری اور مسلسل آوازوں (س، ش، ل، ر) کے ساتھ ملتے ہیں، تو ایک ایسا صوتیاتی امتزاج وجود میں آتا ہے جس کی نظیر اردو شاعری میں نہیں ملتی۔ اسی خوش امتزاجی نے اقبال کے کلام کو وہ دلاویزی، توانائی اور سلسلہ در سلسلہ پھیلنے والی گونج عطا کی ہے جو اسے بجا طور پر 'یزداں گیر' بناتی ہے۔ اقبال نے دراصل غالب کی فکری عظمت اور میر کی صوتی غنائیت کو ملا کر ایک نیا شعری معجزہ تخلیق کیا ہے۔
