زندگی سے یہ سلسلہ کیوں ہے
زندگی سے یہ سلسلہ کیوں ہے
لازمی کوئی حادثہ کیوں ہے
رہنمائی تری ہے یہ کیسی
موت ہی آخری پتہ کیوں ہے
پھول کوئی نہیں ہے راہوں میں
اور کانٹوں کا قافلہ کیوں ہے
تیرے ہونے سے ہو رہا ہے نشہ
دل میں ساقی یہ ولولہ کیوں ہے
روز چلتے ہیں تیری ہی جانب
پھر بھی لیکن یہ فاصلہ کیوں ہے
تجھ سے دل بھی لگا کے دیکھ لیا
تلخ ہی تیرا تجربہ کیوں ہے
زندگی تجھ سے کس طرح پوچھیں
جانے ہم سے تجھے گلہ کیوں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.