سرور عجز کا ہے وصف خود سری کا نہیں
سرور عجز کا ہے وصف خود سری کا نہیں
ازل سے مجھ میں تقاضا برابری کا نہیں
ہمارے شعر کھلیں گے تو جان جاؤ گے
ہمارا کرب فقط ایک ہی صدی کا نہیں
یہ کس جہان مضافات میں رہائش ہے
جہاں پہ کوئی مسافر مری گلی کا نہیں
منافقت کے لبادے شناخت کر لیجے
کوئی نبی کا کہاں ہے اگر علی کا نہیں
عجیب دکھ ہے کہ سب نے بجھا دیے ہیں چراغ
سوال صرف مری زرد روشنی کا نہیں
ترے لئے ہی ازل سے بچا کے رکھا ہے
زمین دل پہ تسلط ابھی کسی کا نہیں
تری طرف سے توجہ رہے بہت ہے مجھے
مجھے ملال کمی یا زیادتی کا نہیں
ہمارا ظرف کسی پر عیاں نہیں ہوتا
کہ یہ مزاج سمندر کا ہے ندی کا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.