Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سرور عجز کا ہے وصف خود سری کا نہیں

محمد مستحسن جامی

سرور عجز کا ہے وصف خود سری کا نہیں

محمد مستحسن جامی

MORE BYمحمد مستحسن جامی

    سرور عجز کا ہے وصف خود سری کا نہیں

    ازل سے مجھ میں تقاضا برابری کا نہیں

    ہمارے شعر کھلیں گے تو جان جاؤ گے

    ہمارا کرب فقط ایک ہی صدی کا نہیں

    یہ کس جہان مضافات میں رہائش ہے

    جہاں پہ کوئی مسافر مری گلی کا نہیں

    منافقت کے لبادے شناخت کر لیجے

    کوئی نبی کا کہاں ہے اگر علی کا نہیں

    عجیب دکھ ہے کہ سب نے بجھا دیے ہیں چراغ

    سوال صرف مری زرد روشنی کا نہیں

    ترے لئے ہی ازل سے بچا کے رکھا ہے

    زمین دل پہ تسلط ابھی کسی کا نہیں

    تری طرف سے توجہ رہے بہت ہے مجھے

    مجھے ملال کمی یا زیادتی کا نہیں

    ہمارا ظرف کسی پر عیاں نہیں ہوتا

    کہ یہ مزاج سمندر کا ہے ندی کا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے