زندگی پائی وہ جس میں کوئی آواز نہیں
زندگی پائی وہ جس میں کوئی آواز نہیں
لے نہیں نغمہ نہیں سوز نہیں ساز نہیں
بال و پر نذر قفس ہو چکے مجبور ہیں ہم
آشیاں سامنے ہے طاقت پرواز نہیں
آج خاموش ہوا ہے مری ہستی کا رباب
تار سب ٹوٹ چکے ساز میں آواز نہیں
بے کسی پوچھنے آئی سر تربت مجھ سے
مرنے والے ترے دل میں تو کوئی راز نہیں
کاسۂ دل کو لئے حسن کی گلیوں میں منیرؔ
چیختا پھرتا ہوں دیتا کوئی آواز نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.