یہاں غریب کو سب کچھ تو دے دیا اس نے
زمیں بچھائے ہے اور آسمان اوڑھے ہے
پریوں کے دیس والی کہانی بھی خوب ہے
بچوں کو جس نے پھر یونہی بھوکا سلا دیا
گھر کی چوکھٹ پہ آئے مفلس کی
ہر صدا بس صدا نہیں ہوتی
تراشتے ہیں جو پتھر کو سخت گرمی میں
پھر ان کا رزق بتاؤ حلال ہے کہ نہیں
خدا کے نام پہ دیتے نہ تھے سو تنگ آ کر
قمیض پھاڑ لی تھوڑی سی اک بھکارن نے
طوائف مر گئی فاقہ کشی سے
نگر سارا نمازی ہو چکا تھا
ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہے
خیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے
مفلسی میں کیا منائی جائیں خوشیاں عید کی
دل میں نشتر بن کے چبھتی ہیں سویاں عید کی