Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غربت پر اشعار

خدا کے نام پہ دیتے نہ تھے سو تنگ آ کر

قمیض پھاڑ لی تھوڑی سی اک بھکارن نے

احمد سلمان

ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہے

خیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے

محمد رضا حیدری

میں ایسے شہر کے بازار میں سجا کہ جہاں

مجھے خریدنے والوں کی جیب خالی ہے

ساحل سحری

مفلسی میں کیا منائی جائیں خوشیاں عید کی

دل میں نشتر بن کے چبھتی ہیں سویاں عید کی

ساحل سحری

پریوں کے دیس والی کہانی بھی خوب ہے

بچوں کو جس نے پھر یونہی بھوکا سلا دیا

اجلال مجید

یہاں غریب کو سب کچھ تو دے دیا اس نے

زمیں بچھائے ہے اور آسمان اوڑھے ہے

انو رضوی

تراشتے ہیں جو پتھر کو سخت گرمی میں

پھر ان کا رزق بتاؤ حلال ہے کہ نہیں

سالم عظیم

گھر کی چوکھٹ پہ آئے مفلس کی

ہر صدا بس صدا نہیں ہوتی

بلال اختر

کسی کے ہاتھ میں کاسہ کسی کے ہاتھ میں جھاڑو

کھلونے ہاتھ میں لے کر کوئی بچہ نہیں نکلا

مولوی اسلم وڑائچ

گل فروشوں کے بچے گرمی میں

ہائے افسوس بھوکے سوتے ہیں

انعم ظامی

طوائف مر گئی فاقہ کشی سے

نگر سارا نمازی ہو چکا تھا

محمد رضا حیدری
بولیے