یہاں غریب کو سب کچھ تو دے دیا اس نے
زمیں بچھائے ہے اور آسمان اوڑھے ہے
یہ کیسے لوگ ہیں یہ کون سی عداوت ہے
ذرا سی بات میں جو خاندان تک جائیں
عمل میں تھا بڑا اخلاص عاصمؔ
کہ جب یہ میڈیا سوشل نہیں تھا
پہلے اک آدھ کوئی لیتا تھا
رشوت اک آدھ اب نہیں لیتا
مسائل مرد کے معلوم ہوں گے
زہے قسمت تجھے بیٹا ہوا ہے