ضرور امن کا پیغام لے گیا تھا کہیں
پرندہ لوٹا لئے پر لہو میں ڈوبے ہوئے
-
موضوع : پرندہ
کن راہوں سے ہو کر آئی ہو کس گل کا سندیسہ لائی ہو
ہم باغ میں خوش خوش بیٹھے تھے کیا کر دیا آ کے صبا تم نے
نشیب ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکے
فراز دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا
-
موضوع : دار
پیغام تو ان کا آیا ہے تم شہر میں تشنہؔ آ جاؤ
صحرا ہے پسندیدہ ہم کو ہم شہر میں جا کر کیا کرتے
-
موضوعات : شہراور 1 مزید
اے رنگون میں چلتی ہوا میرا سندیسہ لیتی جا
تیرا تو ان کی گلیوں میں آنا جانا ہوگا ہی
-
موضوع : ہوا
مدت ہوئی اس کو کہ مری خلوت شب میں
پیغام جو لائی تھی صبا یاد ہے اب تک
کب وہ پیغام رسا ہو کہ مجھے صبر نہیں
کاکل خم کے لئے شعر رقم کرتا ہوں
-
موضوعات : زلفاور 2 مزید