نشیب ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکے
فراز دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا
-
موضوع : پیغام
ہر روز اک آوازہ انا الحق کا لگائیں
دیکھیں تو کہ ہے سلسلۂ دار کہاں تک
میرے ہی خون میں نہلا کے شررؔ
وہ صلیبوں پہ سجا دے گا مجھے
-
موضوع : صلیب
اب تو ضرورت کی اک پگڑی ہے یاروں کے کندھوں پر
ہم لوگوں کے ساتھ یہاں سے رسم صلیب و دار اٹھی
-
موضوعات : صلیباور 1 مزید
نہ جب اہل خرد نے بات مانی
تو پھر شرط صلیب و دار ٹھہری
-
موضوع : صلیب
سولیاں نصب رہیں قحط جنوں ہے بھی تو کیا
کچھ نہ کچھ اب بھی نکل آئیں گے گردن والے
-
موضوع : جنون