Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

طویل انتظارِ پر اشعار

اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے

اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

فرحت احساس

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

داغؔ دہلوی

رات آ کر گزر بھی جاتی ہے

اک ہماری سحر نہیں ہوتی

ابن انشا

جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے

کتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہے

شہریار

زندگی کس طرح کٹے گی سیفؔ

رات کٹتی نظر نہیں آتی

سیف الدین سیف

دن کٹا جس طرح کٹا لیکن

رات کٹتی نظر نہیں آتی

سید محمد اثر

رات کاٹے نہیں کٹتی ہے کسی صورت سے

دن تو دنیا کے بکھیڑوں میں گزر جاتا ہے

ممتاز میرزا

نہ پایا وقت اے زاہد کوئی میں نے عبادت کا

شب ہجراں ہوئی آخر تو صبح انتظار آئی

مرزا محمد تقی ہوسؔ

شام غم کی سحر نہیں ہوتی

آہ بھی کارگر نہیں ہوتی

ساجد صدیقی لکھنوی

شام غم کی سحر نہیں ہوتی

یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی

ابن انشا

اے ذکیؔ ہجر کی راتیں نہیں کاٹے کٹتیں

کوئی اچھی سی غزل گاؤ کہ کچھ رات کٹے

ذکی کاکوروی

سرد رات اپنی نہیں کٹتی کبھی تیرے بغیر

ایسے موسم میں تو اور آگ لگاتی ہے ہوا

شہزاد انجم برہانی

یہ لمبی رات یہ بے خوابی یہ کروٹ کروٹ بیتابی

موسم کے بسنتی چھینٹوں نے کیا آگ جگر میں لگائی ہے

یوسف جمال

ہونٹوں پہ ہنسی پیہم آتے ہوئے شرماتی

اب رات نہیں کٹتی اب نیند نہیں آتی

اسرار الحق مجاز

شام نہیں ڈھلتی کسی صورت رات نہیں کٹتی کسی طور

اب تو بہت دل گھبرائے ہے اب تو بہت یاد آؤ ہو

شوکت پردیسی
بولیے