اردو غزل کی جڑیں بلاشبہ فارسی شاعری کی روایات میں پیوست ہیں، لیکن یہ سمجھنا کہ اردو غزل محض فارسی کا چربہ یا اندھی تقلید ہے، ایک بہت بڑی تاریخی اور ادبی بھول ہوگی۔ اردو غزل دراصل ہندوستانی تہذیب کا ایک جلوۂ صد رنگ ہے۔ اس صنف نے ہندوستان کی مٹی سے جنم لیا اور یہیں کے لوک گیتوں کی روایت، موسموں کی تبدیلیوں، تہواروں، رسم و رواج اور مجلسی و تمدنی زندگی کے ان گنت نقوش کو اپنے اندر محفوظ کر لیا۔
اردو غزل میں ہندوستانی موسموں، بالخصوص برسات اور ساون کا ذکر جس خوبصورتی سے ملتا ہے، وہ اس کے مقامی رنگ کی واضح دلیل ہے۔ درج ذیل اشعار اس تہذیبی رچاؤ کی بہترین مثالیں ہیں:
لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے
الٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے
باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنی ہیں ایک کمسن کے لیے
عجب عالم ہے موج برق کے پہلو میں بادل کا
تری الٹی ہوئی سی آستیں معلوم ہوتی ہے
ان اشعار میں برسات، بجلی کا ڈر، اور ہلکے رنگ کی کلیوں کا ذکر خالص ہندوستانی مزاج اور جمالیات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، غزل نے سماجی اور سیاسی شعور کو بھی اپنے روایتی تلازمات کے پردے میں بخوبی پیش کیا ہے۔ غزل میں استعمال ہونے والی علامتیں جیسے ساحل، طوفان، بھنور، قفس (پنجرہ)، آشیاں، رند، محتسب اور صیاد بظاہر پرانی معلوم ہوتی ہیں، اور بعض ناقدین نے ان پر فرسودگی کا الزام بھی لگایا ہے۔
تاہم، خواجہ منظور حسین نے اپنی تحقیق میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہماری سماجی اور سیاسی زندگی کے ہر موڑ اور ہر کروٹ کی تصویر ان ہی روایتی تلازمات میں پوشیدہ ہے۔ جدید دور میں فیض احمد فیض نے ان ہی پرانی علامتوں کو نئے سیاسی اور سماجی مفاہیم پہنائے۔ فیض کے یہاں قفس اور صیاد کا ذکر سامراجی جبر اور آزادی کی جدوجہد کا استعارہ بن گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غزل کے رموز و علائم کبھی پرانے نہیں ہوتے؛ شرط صرف یہ ہے کہ ان کے استعمال کے پیچھے محض صناعی یا کاریگری نہ ہو، بلکہ ایک سچے جذبے اور کیفیت کی کارفرمائی ہو۔ غزل کا یہ کمال ہے کہ وہ پرانے پیالوں میں نئی شراب انڈیلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
