Added to your favorites
Subscribe to Rekhta Newsletter to get all the latest updates
چرکین نے اردو غزل کے فرضی اور ماورائی محبوب کو آسمان سے اتار کر زمین پر لا کھڑا کیا اور اسے انسانی جبلتوں اور جسمانی افعال کے ساتھ پیش کر کے ایک نئی حقیقت نگاری کی بنیاد رکھی۔
چرکین ایک کامیاب پیروڈی نگار تھے جنہیں غزل کے مروجہ مضامین اور طرزِ بیان پر مکمل دسترس حاصل تھی، اور انہوں نے شہر آشوب کی روایت کو ایک نئے اور چونکا دینے والے انداز میں برتا۔
ملٹن نے لفظ 'Simple' کو منطقی استدلال کی سادگی کے معنوں میں استعمال کیا تھا، جسے کولرج اور حالی نے طرزِ ادا کی سادگی بنا کر اردو شاعری پر افادیت پرستی مسلط کر دی۔
ذوق ہمیں حسن کا عمومی احساس تو دلاتا ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ کوئی شعر کیوں اچھا ہے؛ یہ کام شعر فہمی کا ہے جو ایک باقاعدہ تنقیدی عمل ہے۔
پڑھے لکھے قاری کا کوئی حتمی معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس کی بنیاد پر کسی جدید یا مشکل شاعری کو مہمل قرار دینا غلط ہے۔
اس مضمون میں جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح مولانا حالی نے 'مقدمہ شعر و شاعری' کے ذریعے روایتی غزل کو مسترد کیا، لیکن اپنے تنقیدی نظریات کو اس طرح وضع کیا کہ ان کے استاد مرزا غالب کی عظمت پر کوئی آنچ نہ آئے۔
شمس الرحمن فاروقی کے مطابق فیض کی عظمت محض کلاسیکی الفاظ کو نئے سیاسی معنی پہنانے میں پوشیدہ نہیں، بلکہ یہ دعویٰ ان کی شاعری کی تفہیم کو محدود کرتا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے چرکین کی شاعری پر لگے 'فحاشی' کے الزام کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے 'فحش' اور 'برازیات' (Scatology) کے درمیان واضح فرق قائم کیا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی کے مطابق 'صاحبِ ذوق قاری' ایک فرضی تصور ہے جسے نقاد اپنی کم فہمی چھپانے اور مشکل شاعری کو مسترد کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ذوق بدلتا ہے، لیکن کلاسیکی مضامین کو محض سماجی دباؤ یا جدیدیت کی بنا پر مسترد کرنا غیر تنقیدی رویہ ہے۔
یہ مضمون اس تنقیدی حقیقت پر بحث کرتا ہے کہ ایک عظیم شاعر اپنے پیچھے مقلدین کا کوئی اسکول نہیں چھوڑتا، بلکہ اس کے فوراً بعد آنے والے شعرا اس کے اسلوب سے شعوری یا غیر شعوری طور پر فرار اختیار کرتے ہیں۔
کسی بھی شعر کے تمام ممکنہ مطالب اور شاعر کے اصل عندیے تک مکمل رسائی حاصل کرنا کسی بھی قاری کے لیے ناممکن ہے۔
غالب نے جان بوجھ کر اپنے ہم عصروں اور میر تقی میر کی روایات سے ہٹ کر ایک پیچیدہ اسلوب اپنایا، جس کی بنیادی وجہ ان کی انفرادیت پسندی اور جاگیردارانہ انا تھی۔
شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں میر اور غالب دونوں اردو غزل کے روایتی عاشق سے انحراف کرتے ہیں، لیکن میر کا عاشق ایک جیتا جاگتا انسان ہے جبکہ غالب کا عاشق ایک تجریدی اور مثالی پیکر ہے۔