کلاسیکی اردو اور فارسی غزل کا محبوب عموماً ایک ماورائی، فرضی اور رومانی پیکر ہوتا ہے۔ وہ ایسا حسین و جمیل اور نازک اندام وجود ہے جو گویا انسانی خامیوں اور جسمانی ضروریات سے ماورا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے انگریزی ادب کے حوالے سے والٹر ایلن کی ایک دلچسپ بات نقل کی ہے کہ چارلس ڈکنز کی ہیروئنوں کو ہمیشہ 'قبض' رہتا ہے، یعنی انہیں اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا ان سے کوئی بشری یا بیت الخلائی فعل سرزد ہی نہ ہوتا ہو۔ لارڈ بائرن کے بارے میں بھی مشہور ہے کہ وہ عورتوں کو کچھ کھاتے چباتے نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ اسے یہ فعل انتہائی 'غیر نفیس' لگتا تھا۔
اردو غزل کا محبوب بھی کم و بیش اسی تجریدی کیفیت کا حامل رہا ہے۔ لیکن چرکین کی شاعری کی ایک بہت بڑی اور انوکھی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے معشوق کے اس رومانی اور فرضی پیکر کو توڑ کر اس کی جگہ ایک جیتا جاگتا، گوشت پوست کا زندہ انسان رکھ دیا۔ چرکین کو بول و براز اور اس کے متعلقات سے جو دلچسپی ہے، وہ دراصل ایک بڑی نفسیاتی اور حیاتیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے: معشوق ہو یا شیخ، کوئی بھی ان بشری معاملات سے مفر نہیں پا سکتا۔
چرکین کی برازیات معشوق کو بیت الخلا کی سطح پر لا کر قاری کو یہ یقین دلاتی ہے کہ یہ حسین و جمیل ہستی بھی ہم جیسا ہی ایک عام انسان ہے، اور اس سے بھی وہی افعال سرزد ہوتے ہیں جو ہم عام، گندے اور غیر نفیس انسانوں کے معمولات ہیں۔ چرکین جب محبوب کے حوالے سے شعر کہتے ہیں تو اس کی نزاکت کو زمینی حقائق سے جوڑ دیتے ہیں:
حاجت جو اس نگار کو استنجے کی ہوئی
آنکھوں کے ڈھیلے عاشق بدنام کے لئے
یا پھر یہ شعر ملاحظہ کریں جس میں محبوب کے حسن اور پاخانے کی غلاظت کے درمیان ایک عجیب و غریب تضاد اور رعایت پیدا کی گئی ہے:
رونق افزا ہو جو پاخانے میں وہ رشک بہار
گل ہو لینڈی گو کی شبنم قطرۂ پیشاب ہو
فاروقی صاحب کے نزدیک، چرکین کا یہ رویہ محض فحش گوئی نہیں بلکہ ایک طرح کی شدید حقیقت پسندی (Realism) ہے۔ جو کچھ انسان کے اندر جاتا ہے، وہ کسی نہ کسی شکل میں باہر ضرور آتا ہے۔ چرکین نے اس عام مشاہدے کو شاعری کا حصہ بنا کر یہ ثابت کیا کہ حسن اور عشق کے دعوے اپنی جگہ، لیکن انسانی وجود کی حیاتیاتی حقیقتیں سب کے لیے یکساں ہیں۔ اس طرح چرکین نے اردو غزل کو ایک ایسی زمینی حقیقت سے روشناس کرایا جس سے پہلے کے شعرا شعوری یا لاشعوری طور پر آنکھیں چراتے رہے تھے۔
