زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی بھی قوم کی تہذیب، تاریخ اور ثقافت کی امین ہوتی ہے۔ فراق گورکھپوری کا زبان کے بارے میں ایک نہایت واضح اور خاص نظریہ تھا۔ گوپی چند نارنگ واضح کرتے ہیں کہ فراق کی شاعری نے اپنا رس اور مٹھاس کھڑی بولی کے واسطے سے پراکرتوں کی صدیوں پرانی روایت سے حاصل کی تھی۔ اگرچہ فراق فارسی زبان و ادب پر گہری دسترس رکھتے تھے اور ان کے کلام میں فارسی تراکیب کا خوبصورت استعمال بھی ملتا ہے، لیکن وہ بنیادی طور پر کھڑی بولی کے ٹھیٹھ ٹھاٹ اور 'اردو پن' پر جان چھڑکتے تھے۔
فراق کا ماننا تھا کہ اردو زبان صدیوں کے تہذیبی لین دین اور لسانی و تاریخی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ ان کے نزدیک اردو نے سات آٹھ سو برس کے سماجی عمل میں کھڑی بولی کو نکھارا، بنایا اور سنوارا ہے اور اسے ایک شائستہ اور شستہ روپ عطا کیا ہے۔ اسی لیے وہ اردو میں غیر ضروری اور مصنوعی ثقالت کے سخت خلاف تھے۔ ان کا استدلال تھا کہ اردو کے روزمرہ اور لسانی اصولوں کی خلاف ورزی دراصل خوش مذاقی کے خلاف ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندی بولنے والے اردو کے لسانی تمول اور جمالیاتی حسن کو پہچانیں اور قومی زبان کی تشکیل میں اس سے مدد لیں۔
فراق کی اپنی اردو ایک ایسی سلیس اور شیریں ہندوستانی زبان ہے جسے بآسانی ہندی بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان کے لہجے میں ایک ایسی کھنک اور گھلاوٹ ہے کہ بات سیدھی دل میں اتر جاتی ہے:
یہ زندگی کے کڑے کوس یاد آتے ہیں
تری نگاہ کرم کا گھنا گھنا سایا
فراق کا یہ لسانی نظریہ آج کے دور میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں زبانوں کو مذہب اور سرحدوں کے خانوں میں بانٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فراق نے اپنی شاعری سے ثابت کیا کہ اردو ایک خالص ہندوستانی زبان ہے جس کی جڑیں اس دھرتی کی مٹی میں بہت گہری ہیں۔
