اردو شاعری میں صنفِ رباعی کو ہمیشہ سے ایک خاص مقام حاصل رہا ہے، لیکن فراق گورکھپوری نے اپنی رباعیوں کے ذریعے اس صنف کو ایک بالکل نیا اور اچھوتا موضوع دیا۔ ان کی رباعیوں کا مجموعہ 'روپ' اردو ادب کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ گوپی چند نارنگ کے مطابق، ان رباعیوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں سنسکرت کے 'شرنگار رس' اور ہندی کے 'ریتی کال' کی شاعری کا گہرا اثر پایا جاتا ہے۔ فراق نے ان رباعیوں میں گھریلو محبت کے ایسے مرقعے پیش کیے ہیں جن کی مثال اس سے پہلے اردو شاعری میں نہیں ملتی۔
'روپ' میں ہندوستانی عورت اپنے جسم و جمال کی تمام تر رعنائیوں اور گھر پریوار کی تمام لطافتوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ فراق نے عورت کے مختلف روپ، ایک دوشیزہ کا کنوار پن، ایک بیاہتا بیوی کا سگھڑاپا، اور ایک ماں کا پیار و دلار، نہایت چابکدستی اور عقیدت سے بیان کیے ہیں۔ ان رباعیوں میں جہاں جسم و جمال کی رنگینیوں سے آباد رس بھری کیفیتیں ہیں، وہیں ممتا کی کسک اور پاکیزگی بھی موجود ہے۔ فراق عورت کو محض ایک محبوبہ کے طور پر نہیں بلکہ 'جگت ماتا' کے روپ میں دیکھتے ہیں:
ہے بیاہتا پر روپ ابھی کنوارا ہے
ماں ہے پر ادا جو بھی ہے دوشیزہ ہے
وہ موہ بھری، مانگ بھری، گود بھری
کنیا ہے، سہاگن ہے، جگت ماتا ہے
ڈھلکتا آنچل دمکتے سینے پہ الک
پلکوں کی اوٹ مسکراہٹ کی جھلک
وہ ماتھے کی کہکشاں وہ موتی بھری مانگ
وہ گود میں ننھا سا ہمکتا بالک
فراق کی یہ رباعیاں اردو ادب میں ہندوستانی کلچر اور دیومالائی تصورات کی ایک خوبصورت کھڑکی کھولتی ہیں۔ انہوں نے عورت کے حسن کو تقدس عطا کیا اور اسے روزمرہ کی گھریلو زندگی کے پس منظر میں اس طرح پیش کیا کہ قاری اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ 'روپ' دراصل ہندوستانی تہذیب میں عورت کے مقام اور اس کے جمالیاتی وجود کا ایک عظیم الشان شعری اعتراف ہے۔
