ادب میں پیروڈی (Parody) یا تحریف نگاری محض کسی کا مذاق اڑانے کا نام نہیں ہے۔ ایک کامیاب پیروڈی نگار بظاہر تو اصل متن کا خاکہ اڑاتا ہے، لیکن دراصل وہ اسے خراجِ تحسین پیش کر رہا ہوتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، پیروڈی نگار کے لیے لازمی ہے کہ اسے اپنے ہدف کے طرزِ بیان، اس کی کمزوریوں، مضبوطیوں اور ذہنی ساخت پر مکمل دسترس حاصل ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو پیروڈی کی تنقیدی معنویت ختم ہو جاتی ہے۔ چرکین کی شاعری کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے مقبول طرزِ غزل گوئی اور اس کے نظری مباحث سے پوری طرح آگاہ تھے۔
چرکین غزل کے مزاج آشنا تھے۔ اسی باعث وہ اپنی غزلوں میں نہ صرف مروجہ مضامین کا نہایت کامیاب خاکہ اڑاتے ہیں، بلکہ نئے مضامین بھی ایجاد کرتے ہیں۔ انہوں نے غزل کے مقبولِ عام طرز کی پیروڈی اس مہارت سے کی ہے کہ اس میں مضمون آفرینی کا لطف بھی برقرار رہتا ہے۔ اس کی ایک شاندار مثال 'شہر آشوب' کی روایت کا انوکھا استعمال ہے۔ کلاسیکی شاعری میں مختلف پیشوں سے وابستہ لڑکوں کے حسن کی تعریف ایک عام روایت رہی ہے۔ میر تقی میر نے کہا تھا:
افسانہ خواں لڑکا کیا کہئے دیدنی ہے
قصہ ہمارا اس کا یارو شنیدنی ہے
اسی طرح کلیم ہمدانی نے دھوبن کی رعایت سے کیا خوبصورت شعر کہا تھا:
ز حسن شستۂ دھوبی چہ گویم
ازاں بے پردہ محبوبی چہ گویم
چرکین اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں لیکن ان کا انتخاب چونکا دینے والا ہے۔ وہ 'مہتر پسر' (بھنگی کے لڑکے) کو موضوع بناتے ہیں:
پڑگیا مہتر پسر کے چاند سے منھ کا جو عکس
چاہ مبرز بے تکلف چاہ نخشب ہو گیا
فاروقی صاحب اس شعر کی معنوی تہہ داری کھولتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس میں کس قدر کمال کی رعایتیں موجود ہیں۔ 'مہتر' کے معنی بھنگی بھی ہیں اور سردارِ قوم بھی۔ 'چاہِ مبرز' (پاخانے کا گڑھا) پر مہتر پسر کے چاند سے چہرے کا عکس پڑنے سے وہ 'چاہِ نخشب' (وہ کنواں جہاں سے مقنع خراسانی نے مصنوعی چاند نکالا تھا) بن گیا۔ اس شعر میں متکلم کی اپنی ذات پر ہنسنے کی کیفیت بھی موجود ہے کہ یا تو وہ خود اوندھا پڑا ہے اور مہتر پسر نے اس پر تھوک دیا ہے، یا وہ صفائی پر مامور ہے۔
اسی طرح چرکین کے یہاں 'گوہا چھی چھی' جیسے مرکبات کا استعمال محض غلاظت کا بیان نہیں، بلکہ اس میں معشوق کی سفلگی، کتوں جیسی خصلت، شور و غل اور رسوائی کے کئی استعاراتی معنی پوشیدہ ہیں۔ چرکین کا یہ فن ثابت کرتا ہے کہ وہ غزل کی کلاسیکی روایت کے باغی نہیں، بلکہ اس کے ایک ایسے شناور تھے جنہوں نے اساتذہ کے رنگ کو ایک بالکل نئی اور اچھوتی جہت سے روشناس کرایا۔
