مولانا حالی نے شاعری کے لیے ’سادگی‘ کو ایک لازمی شرط قرار دیا ہے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی کے تجزیے کے مطابق، حالی کا یہ تصورِ سادگی ایک طویل لسانی اور فکری غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ ملٹن نے جب شاعری کو ریطوریقا کے مقابلے میں 'Simple' کہا تھا، تو اس کی مراد طرزِ ادا یا اسلوب کی سادگی نہیں تھی، بلکہ استدلال، دعوے اور دلیل کی سادگی تھی۔ ملٹن کے زمانے میں 'Simple' دراصل 'Complex' کا متضاد تھا، یعنی ایسا استدلال جس میں عناصر کی کثرت اور الجھاؤ نہ ہو۔
کولرج نے اس منطقی اصطلاح کو شاعری کی صفت (Simplicity) میں بدل دیا۔ اس نے سائنس اور شاعری کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ سائنس کا راستہ دشوار گزار ہے جبکہ شاعری ایک وسیع اور آسان شاہراہ کی مانند ہے۔ حالی نے کولرج کے اس استعارے کو من و عن اٹھا لیا اور لکھا کہ علم کا راستہ طالب علم کے لیے مشکل ہوتا ہے، لیکن شعر پڑھنے والے کو ایسی ہموار سڑک ملنی چاہیے جس پر وہ آرام سے چلا جائے۔ اس طرح ملٹن کا منطقی مباحثہ حالی کے ہاتھوں ایک ایسی افادیت پسندانہ سادگی میں بدل گیا جس نے اردو شاعری کے لیے ایک نیا اور محدود معیار قائم کر دیا۔
حالی کو چونکہ اپنی اس افادیت پرستی کا جھنڈا گاڑنا تھا، اس لیے انہوں نے کلاسیکی اردو شاعری کے بہترین نمونوں کو بھی اسی کسوٹی پر پرکھا اور ان کے معانی کو مسخ کیا۔ مثال کے طور پر مومن خاں مومن کا یہ مشہور شعر دیکھیے:
رہتے ہیں جمع کوچۂ جاناں میں خاص و عام
آباد ایک گھر ہے جہان خراب میں
حالی اس شعر پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاعر نے معشوق کے چند خریداروں کو دیکھ کر یہ حکم لگا دیا کہ سارا جہان اس کے کوچے میں مجتمع رہتا ہے، جس سے اثر کچھ پیدا نہیں ہوتا۔ فاروقی صاحب واضح کرتے ہیں کہ حالی یہاں معنی آفرینی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ خاص و عام ہر طرح کے لوگ معشوق کے دلدادہ ہیں، اس لیے اس ویران جہان میں صرف ایک معشوق ہی کا گھر آباد ہے۔
اسی طرح مومن کے ایک اور شعر پر حالی کا تبصرہ ان کی افادیت پرستی کی غمازی کرتا ہے:
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے
حالی اسے ہوا و ہوس کے خلاف ایک اخلاقی بیان قرار دیتے ہیں، جبکہ شعر کا اصل مفہوم یہ ہے کہ عشق ایک ایسا تجربہ ہے جس میں حسرت و حرماں کے سوا کچھ نہیں۔ فاروقی صاحب کے مطابق، حالی نے سادگی کو اضافی قرار دے کر اپنے پسندیدہ شعرا (جیسے غالب) کو تو بچا لیا، لیکن عام اردو شعرا کے لیے ایک ایسی سولی کھڑی کر دی جس نے غزل کی بوطیقا کو شدید نقصان پہنچایا۔
