ادبی مباحث میں اکثر یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ جدید شاعری اتنی مبہم ہے کہ 'پڑھے لکھے' اور 'صاحبِ فہم' قاری بھی اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی اس دلیل کی بنیاد پر ہی سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر اس 'پڑھے لکھے قاری' کی تعریف کیا ہے؟ کیا ہم کالج یا یونیورسٹی کی ڈگری کو پڑھا لکھا ہونے کا معیار قرار دے سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں، کیونکہ ڈگری یافتہ شخص ادب سے کورا ہو سکتا ہے اور غیر ڈگری یافتہ شخص ادب کی گہری فہم رکھ سکتا ہے۔
اگر ڈگری معیار نہیں تو کیا مطالعے کی وسعت کو معیار بنایا جائے؟ فاروقی صاحب قاریوں کو تین گروہوں میں بانٹنا فرض کرتے ہیں: واجبی پڑھے لکھے، اوسط پڑھے لکھے، اور پڑھے لکھے۔ لیکن یہاں بھی حد بندی ناممکن ہے۔ کیا وہ شخص پڑھا لکھا کہلائے گا جس نے میر، غالب اور انیس کو تو پڑھا ہو لیکن یگانہ، فراق یا جدید شعرا کو نہ پڑھا ہو؟ پڑھے لکھے آدمی کا جو معیار ہم مقرر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا تو وہ اتنا بلند ہوتا ہے کہ اس پر کوئی پورا نہیں اترتا، یا اتنا غیر قطعی کہ اس کا اطلاق ہی نہیں ہو سکتا۔
دراصل، جس طرح 'صاحبِ ذوق قاری' ایک فرضی تصور ہے، اسی طرح 'پڑھا لکھا قاری' بھی ایک افسانہ ہے۔ لوگ اکثر اپنے مطالعے اور فہم کی روشنی میں اس مفروضے کو دریافت کرتے ہیں۔ جو نظمیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں، وہ اپنی کم فہمی تسلیم کرنے کے بجائے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی سمجھ سے بھی باہر ہیں۔
فاروقی صاحب واضح کرتے ہیں کہ شعر کی سمجھ کا معاملہ مشق اور مزاولت کا متقاضی ہے۔ جس طرح ہم نے میر یا غالب کے کلام پر مشق کر کے ان کی فہم حاصل کی ہے، اسی طرح جدید شعرا (جیسے افتخار جالب یا احمد ہمیش) کے کلام کے ساتھ بھی مشق کرنی پڑے گی۔ ہم اپنے پرانے معیار کو غیر شعوری طور پر سامنے رکھ کر کسی نئی قسم کی شاعری کو محض اس لیے مطعون نہیں کر سکتے کہ وہ ہمارے فرضی 'پڑھے لکھے قاری' کی فہم سے بالاتر ہے۔
