شاغل عثمانی
اشعار 5
نور سحر و رنگ سحر پر نہیں موقوف
دشمن ہے شب وصل میں آواز اذاں تک
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وعدہ تو وفا ہو کہ نہ ہو یہ ہے شکایت
لب سے کبھی نکلی نہیں تسکین کو ہاں تک
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کعبہ میں کلیسا میں اسے ڈھونڈ کے آخر
حد یہ ہے کہ آ پہنچے ہیں اب کوئے بتاں تک
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہونے کو سحر آئی ہے خاموش ہو اے شمع
تو سوزش پروانہ پہ روئے گی کہاں تک
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ساقی کا کرم دیکھ کہ اک آن میں شاغلؔ
پہنچا ہی دیا بارگہہ پیر مغاں تک
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے