حالی اور آزاد کی تحریک کے بعد اردو نظم میں جو نیا دور آیا، اس میں شعرا نے کلاسیکی تصورات سے بغاوت تو کی، لیکن وہ مغربی اقدار کی اصل روح سے بھی بے بہرہ رہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، اس دور کے شعرا، جن میں جوش ملیح آبادی نمایاں ہیں، کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ وہ 'مناسبتِ الفاظ' جیسی بنیادی کلاسیکی خوبی سے یکسر محروم ہو گئے۔ ان شعرا کا یہ خام خیال تھا کہ اگر 'خیال' ادا ہو جائے تو کافی ہے، وہ اس نکتے سے ناواقف تھے کہ حسنِ بیان کے بغیر حسنِ خیال کا کوئی وجود نہیں۔ زبان کا میکانکی استعمال اور الفاظ کی عدم مناسبت جوش صاحب کی شاعری کے نمایاں ترین عیوب ہیں۔
اس دعوے کی دلیل کے طور پر فاروقی صاحب جوش کی مشہور نظم 'جنگل کی شاہزادی' کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔ اس نظم میں جوش نے ایک دیہاتی لڑکی کا سراپا بیان کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن کلاسیکی رسومیات اور مناسبتِ الفاظ سے ناواقفیت کے باعث یہ سراپا شاعری سے زیادہ موزوں تک بندی معلوم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھیے:
زاہد فریب، گل رخ، کافر، دراز مژگاں
سیمیں بدن، پری رخ، نوخیز، حشر ساماں
خوش چشم، خوب صورت، خوش وضع، ماہ پیکر
نازک بدن، شکر لب، شیریں ادا، فسوں گر
کافر ادا، شگفتہ، گل پیرہن، سمن بو
سروِچمن، سہی قد، رنگیں جمال، خوش رو
ان اشعار میں الفاظ کا ایک بے ہنگم ہجوم ہے جن کا آپس میں کوئی معنوی ربط یا مناسبت نہیں۔ 'گل رخ' اور 'دراز مژگاں' میں کوئی تعلق نہیں، اور 'پری رخ' کہہ کر 'گل رخ' کی بے جا تکرار کی گئی ہے۔ اسی طرح 'خوش چشم'، 'خوب صورت'، 'خوش وضع' جیسے الفاظ محض لغت کی فہرست معلوم ہوتے ہیں، جو کسی نامیاتی یا مصورانہ پیکر کو تراشنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔
اس کے برعکس، فاروقی صاحب 'طلسم ہوش ربا' جیسی داستانِ نثر سے ایک عام سا سراپا پیش کرتے ہیں، جس میں مصنف نے جبیں، رخسار، سینہ، شکم اور زانو جیسے اعضا کا باقاعدہ اور مربوط بیان کیا ہے۔ داستان کا وہ نثری سراپا جوش کی اس نام نہاد رومانی نظم سے کہیں زیادہ فنکارانہ اور حسیاتی ہے۔ جوش صاحب دور ہی دور سے جسم کا طواف کرتے ہیں اور محض رسمی، فرضی اور مشینی صفات کا ڈھیر لگا دیتے ہیں۔
یہ تجزیہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ جب کوئی شاعر اپنی کلاسیکی روایت، ایہام، رعایت اور مناسبت جیسے تصورات سے کٹ جاتا ہے، تو اس کا کلام محض الفاظ کا گورکھ دھندا بن کر رہ جاتا ہے۔ جوش اور ان کے ہم عصروں نے 'حقیقت نگاری' کے نام پر جس شاعری کو فروغ دیا، اس نے اردو ادب کو زبان کی تخلیقی اور معنوی وسعتوں سے محروم کر دیا۔
