اردو ادب کی تاریخ میں علامہ اقبال کی حیثیت ایک مفکر اور پیغامبر شاعر کی رہی ہے۔ حالی اور آزاد کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والی تنقید نے شاعری کو محض 'خیالات' اور 'پیغام' تک محدود کر دیا تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقبال کے اولین اور بعد کے مکتبی و ترقی پسند نقادوں نے ان کے کلام میں موجود فنی محاسن کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ شمس الرحمن فاروقی اس المیے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اقبال کے سیاسی، سماجی اور حکیمانہ لہجے کے شور و غل میں ان کے فن کی طرف دھیان بہت کم دیا گیا، حالانکہ ان کا کلام کلاسیکی شعریات کی باریکیوں، جیسے رعایت، مناسبت اور ایہام، سے بھرا پڑا ہے۔
اقبال نے اگرچہ جدید خیالات کو اپنایا، لیکن انہوں نے قدیم طرز اور کلاسیکی رکھ رکھاؤ کو کبھی ترک نہیں کیا۔ ہر بڑے شاعر کی طرح زبان کے امکانات کو بروئے کار لانا اور معنی کو بالقوۃ سے بالفعل میں منتقل کرنا ان کا فطری رجحان تھا۔ ان کی نظم 'شمع اور شاعر' کے ابتدائی اشعار اس کی بہترین مثال ہیں:
پردۂ دل میں محبت کو ابھی مستور رکھ
یعنی اپنی مے کو رسوا صورتِ مینا نہ کر
اس شعر میں 'مستور' (چھپا ہوا)، 'پردہ'، 'محبت' (مونث)، 'مینا' اور 'رسوا' کے درمیان جو لطیف مناسبت اور رعایت ہے، وہ کلاسیکی فنکاری کی معراج ہے۔ دل کو مینا اور دل کے خون کو شراب (مے) سے تشبیہ دینا اور پھر ان تمام الفاظ کو ایک معنوی لڑی میں پرونا اقبال کی فنی درک کا ثبوت ہے۔
اسی طرح اقبال کےیہاں 'ایہام' کا استعمال بھی نہایت چابکدستی سے ہوا ہے۔ 'جواب شکوہ' کا یہ شعر دیکھیے:
مردمِ چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیا
وہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیا
یہاں 'کالی' میں ایہام ہے؛ قریب کے معنی سیاہ رنگ کے ہیں، لیکن بعید معنی (جو شاعر کی مراد ہیں) افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کی دنیا ہے۔ اسی طرح 'پالنے والی' میں بھی ایہام ہے، جس کے ایک معنی پرورش کرنا اور دوسرے گود میں لیے رہنا (یعنی شہدا کو اپنی آغوش میں سلانا) ہیں۔
یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اقبال محض ایک خطیب یا فلسفی نہیں تھے، بلکہ وہ کلاسیکی طور طریقوں اور زبان کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ تھے۔ ان کے یہاں رعایت اور مناسبت کا اہتمام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حسنِ بیان کے بغیر حسنِ خیال ممکن نہیں۔ اقبال کی عظمت اسی میں ہے کہ انہوں نے اپنے آفاقی پیغام کو اس کلاسیکی شعریات کے سانچے میں ڈھالا جسے ان کے ہم عصر نقاد فرسودہ سمجھ کر رد کر چکے تھے۔
