شاعری میں محض تخیل کا ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ اس تخیل کو پروان چڑھانے اور اسے توانا رکھنے کے لیے ایک خاص قسم کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی کے نزدیک یہ غذا 'مطالعہ کائنات' اور 'صحیفہ فطرتِ انسانی' کا گہرا مشاہدہ ہے۔ قوتِ متخیلہ خلا میں کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتی؛ اسے خارج سے مواد اور مصالحہ درکار ہوتا ہے جس میں وہ اپنا تصرف کر کے نئی شکلیں تراشتی ہے۔ اگر شاعر کائنات کا بغور مطالعہ نہیں کرتا، تو اس کی قوتِ متخیلہ آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
ایک کمال درجے کے شاعر کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندگی میں پیش آنے والی انسان کی مختلف حالتوں کو تعمق کی نگاہ سے دیکھے۔ اسے کائنات میں ان خواص اور کیفیات کو تلاش کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے جو عام آنکھوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ فکر کی مشق سے شاعر میں یہ طاقت پیدا ہوتی ہے کہ وہ مختلف چیزوں میں یکسانیت اور یکساں چیزوں میں اختلاف کو فوراً بھانپ لے۔ مختلف چیزوں سے متحد خاصیت اخذ کرنے کی بہترین مثال مرزا غالب کا یہ شعر ہے:
بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
اس کے برعکس، متحد اشیاء سے مختلف خاصیتیں نکالنے کا کمال میر ممنون کے اس شعر میں نظر آتا ہے:
تفاوت قامت یارو قیامت میں ہے یہ ممنوں
وہی فتنہ ہے لیکن یاں ذرا سانچے میں ڈھلتاہے
دنیا کے جتنے بھی نامور شاعر گزرے ہیں، وہ کائنات اور انسانی فطرت کے مطالعے میں غرق رہے ہیں۔ جب طبیعت اس مشاہدے کی عادی ہو جاتی ہے، تو گنجینہ خیال میں خود بخود نادر تشبیہات اور استعارات جمع ہونے لگتے ہیں۔ انگریزی کے مشہور شاعر سر والٹر سکاٹ کی مثال اس ضمن میں نہایت چشم کشا ہے۔ اس کی نظموں کی سب سے بڑی خوبی اصلیت سے تجاوز نہ کرنا تھی۔ جب وہ کسی جنگل یا پہاڑ کا منظر کھینچتا، تو اس مقام کی روح کو اپنے الفاظ میں قید کر لیتا۔ ایک بار وہ ایک قصہ لکھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے خودرو پھولوں اور پتوں کو نوٹ کر رہا تھا۔ کسی نے پوچھا کہ عام پھولوں کا ذکر کافی نہیں؟ تو اس نے جواب دیا کہ 'تمام کائنات میں دو چیزیں بھی ایسی نہیں جو بالکل یکساں ہوں۔'
جو شاعر کائنات کے اس وسیع مطالعے سے غفلت برتتا ہے اور محض اپنے تخیل کے گھوڑے دوڑاتا ہے، اس کا سرمایہ بہت جلد ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے پاس چند محدود تشبیہیں رہ جاتی ہیں جنہیں بار بار استعمال کرنے سے وہ خود بھی اکتا جاتا ہے اور سامعین بھی بیزار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا، تخیل کی وسعت کا براہِ راست انحصار مطالعہ کائنات کی وسعت پر ہے۔
