اردو شاعری کی تاریخ میں روزمرہ کی اشیا، جانوروں اور عام زندگی کے مظاہر کا ذکر سب سے زیادہ تین شعرا کے یہاں ملتا ہے: میر تقی میر، نظیر اکبر آبادی، اور اکبر الہ آبادی۔ تاہم، ان تینوں کے یہاں اشیا کے استعمال کا مقصد اور اسلوب ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس فرق کو نہایت باریک بینی سے واضح کیا ہے۔
اکبر الہ آبادی کا معاملہ منفرد ہے۔ انہوں نے نئی اور مغربی اشیا (جیسے انجن، ریل، پتلون، کونسل، واٹر ٹیکس) کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا اور انہیں ایک نئی علامتی معنویت عطا کی۔ اکبر کے یہاں ان اشیا کا استعمال سیاسی اور سماجی طنز کے لیے ہوا ہے۔ مثال کے طور پر وہ 'توپ' یا 'کیمپ' کو محض اشیا کے طور پر نہیں بلکہ برطانوی سامراج اور مغربی طرزِ معاشرت کی علامت کے طور پر برتتے ہیں۔
دوسری جانب نظیر اکبر آبادی کو عام شہری زندگی اور اس کے میلوں ٹھیلوں سے دلچسپی تھی۔ ان کے کلام میں اشیا کی کثرت محض زورِ بیان اور خطیبانہ لطف کے لیے ہے۔ نظیر کے یہاں الفاظ کا انبار تو ہے، لیکن وہ کثرتِ معنی پیدا نہیں کرتا۔ ان کے یہاں کثرت تو ہے لیکن تنوع کی وہ گہرائی نہیں جو استعاراتی سطح پر قاری کو چونکا دے۔
ان دونوں کے برعکس، میر تقی میر کا معاملہ بالکل الگ ہے۔ میر نے اپنی غزلوں میں تازہ اور نامانوس الفاظ ڈھونڈ کر استعمال کیے ہیں۔ ان کے یہاں اشیا کی فراوانی محض فہرست سازی نہیں، بلکہ یہ کثرتِ معنی اور استعاراتی رنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ میر کے دیوانِ چہارم سے لیے گئے ان اشعار پر غور کریں:
گھاس ہے مے خانے کی بہتر ان شیخوں کے مصلے سے
پاؤں نہ رکھ سجادے پہ ان کے اس جادے سے راہ نہ کر
کل سے دل کی کل بگڑی ہے جی مارا بے کل ہوکر
آج لہو آنکھوں میں آیا درد وغم سے رو روکر
چھاتی جلی ہے کیسی اڑتی جو یہ سنی ہے
واں مرغ نامہ بر کا کھایا کباب کر کر
میرے ہی خوں میں ان نے تیغہ نہیں سلایا
سویا ہے اژدہا یہ بہتیرے مجھ سے کھا کر
ان اشعار میں گھاس، کل (مشین)، مرغ کے کباب، اور تیغہ، اژدہا جیسے الفاظ زندگی گزارنے کے مختلف طور بیان کرنے کے لیے آئے ہیں۔ میر کے یہاں نباتات، غیر انسانی اشیا، جانور اور اجتماعی جگہیں سب ایک متحرک زندگی کا حصہ بن کر ابھرتے ہیں۔ کرشن چندر نے منٹو کے بارے میں کہا تھا کہ وہ انسان کے اتنے قریب ہیں کہ گھاس میں رینگنے والا کیڑا بھی انہیں نظر آ جاتا ہے۔ فاروقی کے مطابق، اردو شاعری میں یہ بات صرف اور صرف میر تقی میر کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔
