اترن
کبھی کہیں پر
سنا ہے تم نے
کہ کوئی اپنے پرانے کپڑے کہیں غریبوں میں بانٹ دے اور
پھر کبھی ان سے جا کے پوچھے
کہ کس نے پہنا وہ سرخ جوڑا
وہ سبز چادر کسے ملی تھی
کسے ملی میری نیلی جیکٹ
نہیں سنا ناں
کسی کو فرصت نہیں ہے لڑکے
کہ خستہ کپڑوں کے روگ پالے
پرانی اشیاء پہ بین ڈالے
یا اپنی اترن کے بھید رکھے
کبھی کہیں پر
سنا ہے تم نے
کہ کوئی تھک کر کسی پیارے کو دور جنگل میں چھوڑ آئے
تو مڑ کے دیکھے
یا چند سالوں کے بعد واپس وہیں پہ لوٹے
وہ جس کو چھوڑا تھا لینے آئے
نہیں سنا ناں
کسی کو حاجت نہیں ہے لڑکے
کہ رفتگاں کا عذاب جھیلے
پرانی بازی کو پھر سے کھیلے
کسی کے ہونے کو اپنے جینے کی شرط کر لے
اسی لیے تو
مجھے نہیں ہے یہ فکر بالکل
کہاں تمہاری یہ عمر بیتی
یا کیسی حالت میں وقت کاٹا
بچھڑ کے مجھ سے کسے ملے تم
مجھے نہیں ہے یہ فکر بالکل
کہ میری اترن کو کس نے پہنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.