Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اترن

MORE BYماہ نور رانا

    کبھی کہیں پر

    سنا ہے تم نے

    کہ کوئی اپنے پرانے کپڑے کہیں غریبوں میں بانٹ دے اور

    پھر کبھی ان سے جا کے پوچھے

    کہ کس نے پہنا وہ سرخ جوڑا

    وہ سبز چادر کسے ملی تھی

    کسے ملی میری نیلی جیکٹ

    نہیں سنا ناں

    کسی کو فرصت نہیں ہے لڑکے

    کہ خستہ کپڑوں کے روگ پالے

    پرانی اشیاء پہ بین ڈالے

    یا اپنی اترن کے بھید رکھے

    کبھی کہیں پر

    سنا ہے تم نے

    کہ کوئی تھک کر کسی پیارے کو دور جنگل میں چھوڑ آئے

    تو مڑ کے دیکھے

    یا چند سالوں کے بعد واپس وہیں پہ لوٹے

    وہ جس کو چھوڑا تھا لینے آئے

    نہیں سنا ناں

    کسی کو حاجت نہیں ہے لڑکے

    کہ رفتگاں کا عذاب جھیلے

    پرانی بازی کو پھر سے کھیلے

    کسی کے ہونے کو اپنے جینے کی شرط کر لے

    اسی لیے تو

    مجھے نہیں ہے یہ فکر بالکل

    کہاں تمہاری یہ عمر بیتی

    یا کیسی حالت میں وقت کاٹا

    بچھڑ کے مجھ سے کسے ملے تم

    مجھے نہیں ہے یہ فکر بالکل

    کہ میری اترن کو کس نے پہنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے