Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پری

MORE BYاظہر سجاد

    بچپنے کی یادوں میں

    ان گنت فسانے ہیں

    پتھروں کے لوگوں کا

    اک شہر طلسماتی

    پھر وہ ایک شہزادی

    جس کی آنکھیں ہیرے سی

    بال تھے سنہرے سے

    اور وہ قاف کی پریاں

    وہ سبھی فسانے تھے

    ہم بھی داستانوں میں

    کاغذی پروں کے ساتھ

    خوشبوؤں کی وادی میں

    اجنبی جزیروں پر

    خواب بن کے اڑتے تھے

    وہ پری خیالوں کی

    کوہ قاف کی گڑیا

    پتھروں کی بستی میں

    میرے گھر کے آنگن میں

    ایک دن اتر آئی

    اس نے بھولے پن سے جب

    مسکرا کے دیکھا تو

    پتھروں کے لوگوں میں

    روح سی اتر آئی

    زندگی پلٹ آئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے