پری
بچپنے کی یادوں میں
ان گنت فسانے ہیں
پتھروں کے لوگوں کا
اک شہر طلسماتی
پھر وہ ایک شہزادی
جس کی آنکھیں ہیرے سی
بال تھے سنہرے سے
اور وہ قاف کی پریاں
وہ سبھی فسانے تھے
ہم بھی داستانوں میں
کاغذی پروں کے ساتھ
خوشبوؤں کی وادی میں
اجنبی جزیروں پر
خواب بن کے اڑتے تھے
وہ پری خیالوں کی
کوہ قاف کی گڑیا
پتھروں کی بستی میں
میرے گھر کے آنگن میں
ایک دن اتر آئی
اس نے بھولے پن سے جب
مسکرا کے دیکھا تو
پتھروں کے لوگوں میں
روح سی اتر آئی
زندگی پلٹ آئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.