Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سمتوں کا رقص

محمد افتخار شفیع

سمتوں کا رقص

محمد افتخار شفیع

MORE BYمحمد افتخار شفیع

    سرسراتی ہوئی نیلگوں روشنی کی طرف

    روشنی ہی کی رفتار سے میں

    سفر کرتے کرتے جو دائیں مڑا

    تو مجھے یاد ہے میرے پہلو میں کوئی ستارہ نہیں تھا

    خلائی سفر کا سبک رو فرشتہ

    مجھے اپنے نیلے پروں پر بٹھا کر

    کسی اجنبی سمت لے جا رہا تھا

    کوئی ابر رحمت نہ بادل نہ رضواں

    خدائی کا شعلہ نہ دوزخ کا درباں

    کہ حد نظر تک

    بس اک نور کا جادوئی دائرہ تھا

    دھما دھم دھما دھم

    دھما دھم دھما دھم

    ہر اک ذرۂ ساز میں شور گردش بپا تھا

    جو سمتوں کے اس رقص بے خود میں

    مجھ کو بھی بے خود کیے جا رہا تھا

    یہ سمتوں کا جادو حجاب من و تو

    فقط ہو

    فقط ہو

    وہاں سیل دنیا یہاں خلوت لا

    ازل سے ابد کی حدوں سے کہیں دور

    میں اونگھتی آنکھ سے اس تماشے میں چہرے کو سہلا رہا تھا

    یہ وہ رہ گزر تھی

    جہاں سے کسی آشنا کے گزرنے کی امید کب تھی

    میں اس کی حقیقت کو تسلیم کرنے پہ راضی نہیں تھا

    فضاؤں میں بکھرے ہوئے پر تھے لیکن پرندے نہیں تھے

    اڑانیں بس اپنے ہی محور کے چاروں طرف گھومتی تھیں

    کہیں کھو گیا میرا سیمرغ برتر

    اگر وہ یہیں ہے

    یہیں ہے کہیں ہے

    مرے آئینہ خانۂ دل میں

    اس کا تو عکس دروں تک نہیں ہے

    میں وحدت ہوں کل ہوں حقیقت کا اک آئنہ ہوں

    سدا جبر پیہم میں رقص دھما دھم

    میں ذرہ نہیں اس درخشاں فضا کا

    میں اپنی حقیقت کی پہلی نظر ہوں

    میں خود ہی مسافر میں خود ہی سفر ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے