سمتوں کا رقص
سرسراتی ہوئی نیلگوں روشنی کی طرف
روشنی ہی کی رفتار سے میں
سفر کرتے کرتے جو دائیں مڑا
تو مجھے یاد ہے میرے پہلو میں کوئی ستارہ نہیں تھا
خلائی سفر کا سبک رو فرشتہ
مجھے اپنے نیلے پروں پر بٹھا کر
کسی اجنبی سمت لے جا رہا تھا
کوئی ابر رحمت نہ بادل نہ رضواں
خدائی کا شعلہ نہ دوزخ کا درباں
کہ حد نظر تک
بس اک نور کا جادوئی دائرہ تھا
دھما دھم دھما دھم
دھما دھم دھما دھم
ہر اک ذرۂ ساز میں شور گردش بپا تھا
جو سمتوں کے اس رقص بے خود میں
مجھ کو بھی بے خود کیے جا رہا تھا
یہ سمتوں کا جادو حجاب من و تو
فقط ہو
فقط ہو
وہاں سیل دنیا یہاں خلوت لا
ازل سے ابد کی حدوں سے کہیں دور
میں اونگھتی آنکھ سے اس تماشے میں چہرے کو سہلا رہا تھا
یہ وہ رہ گزر تھی
جہاں سے کسی آشنا کے گزرنے کی امید کب تھی
میں اس کی حقیقت کو تسلیم کرنے پہ راضی نہیں تھا
فضاؤں میں بکھرے ہوئے پر تھے لیکن پرندے نہیں تھے
اڑانیں بس اپنے ہی محور کے چاروں طرف گھومتی تھیں
کہیں کھو گیا میرا سیمرغ برتر
اگر وہ یہیں ہے
یہیں ہے کہیں ہے
مرے آئینہ خانۂ دل میں
اس کا تو عکس دروں تک نہیں ہے
میں وحدت ہوں کل ہوں حقیقت کا اک آئنہ ہوں
سدا جبر پیہم میں رقص دھما دھم
میں ذرہ نہیں اس درخشاں فضا کا
میں اپنی حقیقت کی پہلی نظر ہوں
میں خود ہی مسافر میں خود ہی سفر ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.