پیاس
ابھی رخصت ہوئے مل بیٹھ کے ہنس بول کے تم
پھر وہی یاد وہی دید کی حسرت وہی پیاس
یہ مری گونجتی تنہائی یہ میرا بن باس
تم مرا راز ہو سانسوں میں رہو دل میں بسو
تم مرا گیت ہو ہر ساز پہ گا لوں گا تمہیں
روز کھوتا ہوں مگر مہر جہاں تاب کی طرح
کہ دم صبح در و بام پہ پا لوں گا تمہیں
اب جو دیکھوں گا تو بس دیکھتا رہ جاؤں گا
اب ملو گے تو نگاہوں میں چھپا لوں گا تمہیں
جان شاعر تمہیں اب تک نہیں دیکھا میں نے
آنکھ بھر کر تمہیں اب تک نہیں دیکھا میں نے
ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے یہ ممکن بھی نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.