یوم آزادیٔ جمہور
دلچسپ معلومات
(۲۶؍ جنوری ۱۹۵۸ء)
یوم آزادیٔ جمہور منائیں گے سبھی
عہد ماضی کے دن اک ایک بھلائیں گے سبھی
پھر سے مل جل کے قدم آگے بڑھائیں گے سبھی
اک نئی راہ وفا پھر سے بنائیں گے سبھی
آتش فرقہ پرستی کو بجھائیں گے سبھی
دیکھ لینا کہ دیئے گھی کے جلائیں گے سبھی
پھول اپنے ہیں پھل اپنے ہیں چمن اپنا ہے
باغباں اپنی ہی مرضی کا بنائیں گے سبھی
فخر دنیا کی ہر اک قوم کرے گی ہم پر
غیر کو سینے سے جب اپنے لگائیں گے سبھی
آدمیت کو پر اخلاص بنانے کے لیے
زندگی عطر محبت میں بسائیں گے سبھی
صاف صاف آئے نظر تاکہ حقیقت ساری
گھر گھر اس طرح چراغ اپنے جلائیں گے سبھی
ساز آزادیٔ جمہور یہ مل جل کے بہم
نغمہ آزادی جمہور کا گائیں گے سبھی
خلق کے ساتھ بہم ہو کے ہمہ گیر جمالؔ
حسن فطرت کی طرح جلوے دکھائیں گے سبھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.