Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وقت کی کہانی

اختر الایمان

وقت کی کہانی

اختر الایمان

MORE BYاختر الایمان

    یہ سامنے جو عمارت ہے بارہ منزل کی

    علم بلند ہے جس پر کسی سفارت کا

    یہاں نشاں تھے کبھی لودھیوں کی عظمت کے

    اور اس کے بعد تصرف میں تغلقوں کے رہی

    یونہی بدلتی گئی ہاتھ یہ امانت تھی

    ہر آنے والے زمانے کے پاسبانوں کی

    ہماری طفلی کے ایام بھی ہیں وقف یہاں

    پکڑتے پھرتے تھے شامائیں گدگلیں گلدم

    کبھی کلیلیں کیا کرتے تھے ہرن کی طرح

    کبھی درختوں کی چھاؤں میں بیٹھے رہتے تھے

    یونہی بلا کسی مقصد کے بے سبب پہروں

    بھری دوپہری خنک چاندنی تھی سب کے لیے

    وہ یار کھو گئے گرداب زیست میں سب آج

    ہمارے پہلو میں جو بیٹھتے تھے جیسے صنم

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے