وقت کی کہانی
یہ سامنے جو عمارت ہے بارہ منزل کی
علم بلند ہے جس پر کسی سفارت کا
یہاں نشاں تھے کبھی لودھیوں کی عظمت کے
اور اس کے بعد تصرف میں تغلقوں کے رہی
یونہی بدلتی گئی ہاتھ یہ امانت تھی
ہر آنے والے زمانے کے پاسبانوں کی
ہماری طفلی کے ایام بھی ہیں وقف یہاں
پکڑتے پھرتے تھے شامائیں گدگلیں گلدم
کبھی کلیلیں کیا کرتے تھے ہرن کی طرح
کبھی درختوں کی چھاؤں میں بیٹھے رہتے تھے
یونہی بلا کسی مقصد کے بے سبب پہروں
بھری دوپہری خنک چاندنی تھی سب کے لیے
وہ یار کھو گئے گرداب زیست میں سب آج
ہمارے پہلو میں جو بیٹھتے تھے جیسے صنم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.