یاد
دور ایک وادی میں
ایک لڑکی رہتی تھی
کھلکھلا کے ہنستی تھی
منہ چھپا کے روتی تھی
خواب بنتی رہتی تھی
عکس کے صداؤں کے
راہ دیکھتی تھی وہ
ایک شاہزادے کا
اس کو ساتھ لے جائے
خواب کے جزیرے پر
خوشبوؤں کی وادی میں
مسکراتی آنکھوں میں ان کہے فسانے تھے
کتنے ان کہے جذبے
کتنی ان کہی باتیں
اس کے دل میں لرزاں تھیں
وہ حسیں پہیلی سی
جانے اب کہاں ہوگی
خواب بن رہی ہوگی
تھک کے سو گئی ہوگی
راہ تک رہی ہوگی
چھپ کے رو رہی ہوگی
کیا خبر کہاں ہوگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.