یو ٹو
یادوں کی الماری میں تو
ایک اک ہینگر بوجھ بنا ہے
دیر سے گھر کو لوٹنے والے
رفتہ رفتہ لوٹ رہے ہیں
سرما کی یخ بستہ راتیں
قندھاری موسم کی آمد کے بارے میں
سوچ رہی ہیں
اور ادھر میں اپنے گھر کے اک کمرے میں
تنہا اور ملول سا ہو کر
آنکھ مچولی کھیلنے والے
بجھتے آتش دان کے پاس
بیٹھا ہوا یہ سوچ رہا ہوں
وہ بھی کیسا لمحہ تھا جب
ایسی اک ان ہونی سی شب
تھکی تھکی سرگوشی کے انداز میں اس کا
سرد ہوا کے ہاتھ مجھے پیغام ملا تھا
تم تو بڑے بروٹس نکلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.