بیٹی کے لیے ایک نظم
چاند کے پاس اک ستارا ہے
وہ جو تارا ہے میری آنکھوں کا
اور رہتا ہے میرے سینے میں
اس کی آنکھوں میں ایک جھرمٹ ہے
جھلملاتے ہوئے ستاروں کا
وہ سراپا جو کہکشاں سا ہے
اس کی معصوم مسکراہٹ سے
کتنے تارے فضا میں چلتے ہیں
میرے گھر کے اداس آنگن میں
چاندنی کے چراغ جلتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.