Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ریاضت

MORE BYماہ نور رانا

    ہم نے اس جرأت اظہار کو دینا تھا دوام

    اس لیے عمر گزاری ہے سر دار کلام

    ہم نے اک تیغ کی اصنام تخیل کی حریف

    نار الہام کے سینے سے نکالی ہے ردیف

    مطلع لکھا تو رگ جاں سے سیاہی مانگی

    اور مقطع کے لیے تازہ تباہی مانگی

    اپنی لکنت کو کیا حسن تلفظ سے گزند

    کیے رکھا در آورد کے نخچیر کو بند

    سیخ اظہار پہ رکھا ہے صدا دل کا کباب

    اور متروک کیا خود پہ ہر اک جام شباب

    کئی گمنام سفر ناموں کے پشتے کھولے

    وقت اظہار رہے چپ سر مصحف بولے

    کشتیاں فکر کی رکھی ہیں رواں شام و سحر

    بھول کر عہد محبت کے جواں شام و سحر

    خواہش دولت و عشرت کو سبوتاژ کیا

    غم دوراں کی روایت کو سبوتاژ کیا

    صوت کے بد نما سورج کی تپش جسم پہ لی

    اپنے ہونے کی گواہی بھی کسی اسم پہ لی

    کنج تنہائی میں پیدا کیا ہو کا عالم

    اور کیا شورش تفسیر کو ہرجا برہم

    ہم نے اردوئے معلی کو عبادت سمجھا

    کیسے اٹھتا ہے گراں بار طریقت سمجھا

    تب کہیں ہم سے کوئی مصرع کوئی شعر ہوا

    تب کہیں ہم سے سماعت کا عدو زیر ہوا

    شعر بھی کیا کہ فقط دل کی تسلی کے لیے

    یا یہ کہیے کہ کسی ذوق تجلی کے لیے

    حرف و تاثیر کے مابین یہ صورت نکلی

    نظم کی شکل بنی اذن کی مورت نکلی

    اہل دنیا نے بڑی حوصلہ افزائی کی

    بعض اوقات تو دشمن نے پذیرائی کی

    دوست اک عمر لگا کر سخن اعجاز کیا

    خواب تحریر کو شرمندۂ آواز کیا

    پھر بھی لگتا ہے کوئی بات بیاں ہو نہ سکی

    شعر نشتر نہ ہوئے نظم کماں ہو نہ سکی

    جس طرح گیسوئے خم دار سلجھنے کا نہیں

    فائدہ لیلیٔ مصرع سے الجھنے کا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے