Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک نظم ایک خواب

ظہور نظر

ایک نظم ایک خواب

ظہور نظر

MORE BYظہور نظر

    رات گہری ہوئی

    نیند زہری ہوئی

    اپنی زنجیر کو میری تخئیل سے

    توڑ کر چل پڑی بات ٹھہری ہوئی

    جتنے الفاظ تھے

    میرے افکار کے کنج تمہید میں

    ان سنی ان کہی تشنہ لب بات کا تازیانہ بنے

    جتنے سنگیت تھے

    میرے جذبات کے ساز نادید میں

    ان مٹی حسرتوں کی لرزتی ہوئی بے قرار انگلیوں کا نشانہ بنے

    شوق کی راہ میں روشنی کی طرح

    ناچ کر گھوم کر پھیل کر بج اٹھیں

    ایک بے صورت نغمے کی پرچھائیاں

    روح کی دھند میں بستیوں کی طرح

    دھڑکنیں جاگ اٹھیں لے کے انگڑائیاں

    دکھ کے پتھریلے رستے پہ دونوں طرف

    سکھ کے کچے گھروندوں میں دیپک جلے

    ہاتھ اک دوسرے کا سنبھالے ہوئے

    اپنے جال اپنے کاندھوں پہ ڈالے ہوئے

    خواب جیون کے ساحل کی جانب چلے

    دیکھتے دیکھتے کانپ کر کھل گئے

    سوچ کے ملگجے ملگجے بادباں

    ڈولتی جھومتی گھومتی چل پڑیں

    ذہن کے بحر میں فکر کی کشتیاں

    جگمگانے لگیں

    مسکرانے لگیں

    دور تک خواہشوں کی سجل مشعلیں

    دل نے مجھ سے کہا میں نے دل سے کہا

    آؤ ہم بھی چلیں

    اور پھر ذہن کے بے کراں بحر میں

    خواب غوطوں پہ غوطے لگانے لگے

    اپنے جالوں میں روتی سسکتی ہوئی یاد کی سیپیاں بھر کے لانے لگے

    اس سے پہلے کہ دل

    یاد کی سیپیاں کھول کر ان سے آشا کے موتی چنے

    اس سے پہلے کہ دل

    یاد کی سیپیاں کھول کر ان سے آشا کے موتی چنے

    چشم نم کھل گئی

    راہ غم کھل گئی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے