ایک نظم ایک خواب
رات گہری ہوئی
نیند زہری ہوئی
اپنی زنجیر کو میری تخئیل سے
توڑ کر چل پڑی بات ٹھہری ہوئی
جتنے الفاظ تھے
میرے افکار کے کنج تمہید میں
ان سنی ان کہی تشنہ لب بات کا تازیانہ بنے
جتنے سنگیت تھے
میرے جذبات کے ساز نادید میں
ان مٹی حسرتوں کی لرزتی ہوئی بے قرار انگلیوں کا نشانہ بنے
شوق کی راہ میں روشنی کی طرح
ناچ کر گھوم کر پھیل کر بج اٹھیں
ایک بے صورت نغمے کی پرچھائیاں
روح کی دھند میں بستیوں کی طرح
دھڑکنیں جاگ اٹھیں لے کے انگڑائیاں
دکھ کے پتھریلے رستے پہ دونوں طرف
سکھ کے کچے گھروندوں میں دیپک جلے
ہاتھ اک دوسرے کا سنبھالے ہوئے
اپنے جال اپنے کاندھوں پہ ڈالے ہوئے
خواب جیون کے ساحل کی جانب چلے
دیکھتے دیکھتے کانپ کر کھل گئے
سوچ کے ملگجے ملگجے بادباں
ڈولتی جھومتی گھومتی چل پڑیں
ذہن کے بحر میں فکر کی کشتیاں
جگمگانے لگیں
مسکرانے لگیں
دور تک خواہشوں کی سجل مشعلیں
دل نے مجھ سے کہا میں نے دل سے کہا
آؤ ہم بھی چلیں
اور پھر ذہن کے بے کراں بحر میں
خواب غوطوں پہ غوطے لگانے لگے
اپنے جالوں میں روتی سسکتی ہوئی یاد کی سیپیاں بھر کے لانے لگے
اس سے پہلے کہ دل
یاد کی سیپیاں کھول کر ان سے آشا کے موتی چنے
اس سے پہلے کہ دل
یاد کی سیپیاں کھول کر ان سے آشا کے موتی چنے
چشم نم کھل گئی
راہ غم کھل گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.