شاعری محض خیالات کی بلندی کا نام نہیں، بلکہ ان خیالات کو ایک مناسب، دلکش اور موثر لباس پہنانے کا فن ہے۔ مولانا حالی کے نزدیک کائنات کے مطالعے کے بعد دوسرا سب سے اہم اور ضروری مرحلہ 'الفاظ کا مطالعہ' اور ان پر کامل قدرت حاصل کرنا ہے۔ شاعر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کن الفاظ کے ذریعے اپنے خیالات مخاطب کے روبرو پیش کر رہا ہے۔ شعر کی ترتیب کے وقت متناسب الفاظ کا انتخاب کرنا اور انہیں اس طرح ترتیب دینا کہ معنی مقصود پوری طرح واضح ہو جائے، ایک کٹھن لیکن ناگزیر عمل ہے۔
اگر شعر میں الفاظ کی ترتیب ایسی نہیں جو خیال کی تصویر ہو بہ ہو آنکھوں کے سامنے کھڑی کر دے اور قاری کو مسخر کر لے، تو حالی کے بقول، ایسے شعر کے کہنے سے نہ کہنا بہتر ہے۔ اگرچہ قوتِ متخیلہ الفاظ کی ترتیب میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے، لیکن اگر شاعر زبان کے وسیع ذخیرے پر حاوی نہیں اور الفاظ کی تلاش و جستجو میں صبر و استقلال سے کام نہیں لیتا، تو محض تخیل کچھ کام نہیں آ سکتا۔
جو کامل شعراء اپنے کلام سے لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں، انہیں ایک ایک لفظ کی قدر و قیمت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کون سا لفظ جمہور کے جذبات پر کیا اثر ڈالے گا اور کس لفظ کے ترک کرنے سے بیان میں کیا خاصیت پیدا ہوگی۔ اگر ان کے شعر میں بال برابر بھی کمی رہ جائے، تو وہ فوراً محسوس کر لیتے ہیں کہ کلام میں کہاں کسر رہ گئی ہے۔ جس طرح ایک ناقص سانچے میں ڈھلی ہوئی چیز اپنی خامی خود بیان کر دیتی ہے، اسی طرح کامل شاعر کی نظر میں ناموزوں لفظ فوراً کھٹکنے لگتا ہے۔
وزن اور قافیے کی قید اکثر شاعروں کو ایسے الفاظ کے استعمال پر مجبور کر دیتی ہے جو خیال کو پوری طرح ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ لیکن ایک ناقص اور کامل شاعر میں یہی فرق ہے کہ ناقص شاعر تھوڑی سی جستجو کے بعد اسی نامکمل لفظ پر قناعت کر لیتا ہے، جبکہ کامل شاعر جب تک زبان کے تمام کنویں نہیں جھانک لیتا اور بہترین لفظ تلاش نہیں کر لیتا، تب تک چین سے نہیں بیٹھتا۔ ایک حکیم شاعر کا قول ہے کہ شعر شاعر کے دماغ سے مکمل ہتھیار بند ہو کر نہیں نکلتا، بلکہ خیال کی ابتدائی خامی سے لے کر اس کی حتمی تراش خراش تک شاعر کو کئی کٹھن مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے شاعروں کا کلام مختلف نسخوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ ملتا ہے، کیونکہ وہ اطمینان کے وقت اپنے کلام کی مسلسل کاٹ چھانٹ کرتے رہتے ہیں۔
