اردو غزل میں عموماً معشوق کو ایک ظالم، بے وفا اور سنگدل محبوب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی صفات کم و بیش یکساں (Consistent) اور سطوری (Linear) ہوتی ہیں۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی کی تحقیق کے مطابق، میر تقی میر کے یہاں معشوق کا کردار اس روایتی سانچے سے بہت مختلف اور حیرت انگیز حد تک پیچیدہ (Complex) ہے۔ میر کا معشوق مومن یا غالب کے معشوق کی طرح محض ایک تصور یا علامت نہیں، بلکہ وہ گوشت پوست کا ایک ایسا کردار ہے جس میں متضاد پہلو یکجا ہیں۔
میر کے یہاں عاشق اور معشوق کے درمیان برابری کا رشتہ نہیں ہے؛ معشوق بہرحال حاوی رہتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عاشق بالکل بے بس ہے۔ جب تعلقات ٹھیک رہتے ہیں تو عاشق معشوق کی سخت سست سن لیتا ہے، لیکن جب بات بگڑتی ہے تو وہ ترکی بہ ترکی جواب بھی دیتا ہے۔ معشوق کی شخصیت میں استغنا، ناپرسی، خوں ریزی، شوقِ شکار اور زود رنجی کے عناصر پوری طرح کارفرما ہیں۔
میر کے معشوق کی سفاکی اور حسن کی قتالی کو فاروقی صاحب نے اس شاندار شعر کی مثال سے واضح کیا ہے:
جوں چشم بسملی نہ مندی آوے گی نظر
جو آنکھ میرے خونی کے چہرے پہ باز ہو
اس شعر میں معشوق کو 'خونی' کہا گیا ہے اور اس کے حسن کی کشش کو ذبح کیے گئے جانور کی کھلی رہ جانے والی آنکھ (چشمِ بسملی) کے استعارے سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ پیکر غیر معمولی واقعیت اور شدت سے بھرپور ہے۔
اس کے علاوہ، میر کا معشوق طنز و استہزا کا بادشاہ ہے۔ وہ عاشق کی حالت پر ہنستا ہے، اس سے ظرافت سے پیش آتا ہے اور بعض اوقات اس کی تذلیل بھی کرتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی، وہ کبھی کبھار التفات بھی دکھاتا ہے۔
شوخی تو دیکھو آپھی کہا آؤ بیٹھو میر
پوچھا کہاں تو بولے کہ میری زبان پر
یہ معشوق جان بوجھ کر ظلم کرتا ہے یا اس کی فطرت ہی ایسی ہے، یہ طے کرنا مشکل ہے۔ وہ اوباش بھی ہے اور بادشاہ بھی۔ فاروقی صاحب کے نزدیک، میر کے کلیات میں عاشق اور معشوق کے جو پیکر (Images) ملتے ہیں، وہ فکشن کے کرداروں کی طرح اپنی انفرادیت رکھتے ہیں اور واقعی زندگی کے انسانوں کی طرح پیچیدہ ہیں۔ ان کرداروں کی یہی واقعیت اور نفسیاتی گہرائی میر کو اردو شاعری کا سب سے بڑا انسانی رشتوں کا شاعر بناتی ہے۔
