Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سینے میں دبی رہ گئی گویائی ہماری

محمد مستحسن جامی

سینے میں دبی رہ گئی گویائی ہماری

محمد مستحسن جامی

MORE BYمحمد مستحسن جامی

    سینے میں دبی رہ گئی گویائی ہماری

    برسوں پہ ہے پھیلی ہوئی تنہائی ہماری

    بکھرے ہوئے زخموں کا فقط ایک ہی حل ہے

    اس آنکھ سے ہو سکتی ہے ترپائی ہماری

    تا حد نظر آنکھ میں موجود خلا دیکھ

    مٹی تجھے لگتی نہیں صحرائی ہماری

    ہر موڑ پہ عجلت تھی سو ناکام ہی ٹھہرے

    کام اس لیے آئی نہیں دانائی ہماری

    ہم موج میں آنے سے گریزاں ہیں وگرنہ

    تو ڈھونڈتا رہ جائے گا پرچھائی ہماری

    انداز جدا اس لئے جامیؔ ہے کہ ہر شب

    سنتے ہیں غزل بیدمؔ و مینائیؔ ہماری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے