سینے میں دبی رہ گئی گویائی ہماری
سینے میں دبی رہ گئی گویائی ہماری
برسوں پہ ہے پھیلی ہوئی تنہائی ہماری
بکھرے ہوئے زخموں کا فقط ایک ہی حل ہے
اس آنکھ سے ہو سکتی ہے ترپائی ہماری
تا حد نظر آنکھ میں موجود خلا دیکھ
مٹی تجھے لگتی نہیں صحرائی ہماری
ہر موڑ پہ عجلت تھی سو ناکام ہی ٹھہرے
کام اس لیے آئی نہیں دانائی ہماری
ہم موج میں آنے سے گریزاں ہیں وگرنہ
تو ڈھونڈتا رہ جائے گا پرچھائی ہماری
انداز جدا اس لئے جامیؔ ہے کہ ہر شب
سنتے ہیں غزل بیدمؔ و مینائیؔ ہماری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.