Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غم تیز ہے تو زیست گزرنا محال ہے

سیف زلفی

غم تیز ہے تو زیست گزرنا محال ہے

سیف زلفی

MORE BYسیف زلفی

    غم تیز ہے تو زیست گزرنا محال ہے

    اس زلزلہ میں گھر کا ٹھہرنا محال ہے

    اک آگ ہے کہ شعلہ فشاں ہے بہر قدم

    اب اس زمیں پہ پاؤں بھی دھرنا محال ہے

    سچی ہو واردات تو دل بھولتا نہیں

    گہرا لگے جو زخم تو بھرنا محال ہے

    وہ بات میرے ذہن میں گونجی ہے رات بھر

    وہ بات جس کا ذکر بھی کرنا محال ہے

    رستہ میں پتھروں کی سلیں ہیں تنی ہوئی

    انساں کا ان کے پار گزرنا محال ہے

    اس موڑ پر ہوں میں کہ جہاں دوستو مجھے

    جینا وبال جاں ہے تو مرنا محال ہے

    پتھر کمر سے باندھ کے ڈوبا ہے وہ جری

    کیا سوچتے ہو لاش ابھرنا محال ہے

    اب کس زباں سے اپنی ہی تردید کیجیے

    تحریر دے چکے تو مکرنا محال ہے

    جذبہ کی جتنی آگ ہے دل میں دبی ہوئی

    کاغذ پہ شعر بن کے بکھرنا محال ہے

    زلفیؔ دکھوں کا اپنے میں کیا تجزیہ کروں

    ان گہرے پانیوں میں اترنا محال ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے