غم تیز ہے تو زیست گزرنا محال ہے
غم تیز ہے تو زیست گزرنا محال ہے
اس زلزلہ میں گھر کا ٹھہرنا محال ہے
اک آگ ہے کہ شعلہ فشاں ہے بہر قدم
اب اس زمیں پہ پاؤں بھی دھرنا محال ہے
سچی ہو واردات تو دل بھولتا نہیں
گہرا لگے جو زخم تو بھرنا محال ہے
وہ بات میرے ذہن میں گونجی ہے رات بھر
وہ بات جس کا ذکر بھی کرنا محال ہے
رستہ میں پتھروں کی سلیں ہیں تنی ہوئی
انساں کا ان کے پار گزرنا محال ہے
اس موڑ پر ہوں میں کہ جہاں دوستو مجھے
جینا وبال جاں ہے تو مرنا محال ہے
پتھر کمر سے باندھ کے ڈوبا ہے وہ جری
کیا سوچتے ہو لاش ابھرنا محال ہے
اب کس زباں سے اپنی ہی تردید کیجیے
تحریر دے چکے تو مکرنا محال ہے
جذبہ کی جتنی آگ ہے دل میں دبی ہوئی
کاغذ پہ شعر بن کے بکھرنا محال ہے
زلفیؔ دکھوں کا اپنے میں کیا تجزیہ کروں
ان گہرے پانیوں میں اترنا محال ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.