کام آیا نہ کچھ اپنا تن زار آخر کار
کام آیا نہ کچھ اپنا تن زار آخر کار
سمجھے اکسیر تھے نکلا وہ غبار آخر کار
باغباں تھا تجھے دو دن کی ہوا پر یہ غرور
نہ رہے باغ میں گل رہ گئے خار آخر کار
عشق ذرہ بھی اگر ہو تو اسے کم مت جان
ہو کے شعلہ ہی بجھے گا یہ شرار آخر کار
اس قدر جرعہ کش خون خلائق ہے تو
جی دھڑکتا ہے کہ کھینچے نہ خمار آخر کار
جوں وہ پروانہ جسے شمع سے ہو صبح کو وصل
گرم ہم سے جو ہوئی صحبت یار آخر کار
سوزش داغ دل اپنے کی وفا اے سوداؔ
کیا کہوں میں کہ ہوئی شمع مزار آخر کار
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.