اپنے دکھ چھوڑ کے اوروں کا مداوا ہونا
اپنے دکھ چھوڑ کے اوروں کا مداوا ہونا
خود مرے واسطے اچھا نہیں اچھا ہونا
رنج کی دھوپ سے یک لخت بچا لیتا ہے
مجھ پہ ہر وقت مرے باپ کا سایہ ہونا
تیرا بیٹا بھی تری طرح کی لڑکی پہ مرے
پھر تو سمجھے گی مری ماں کا شکستہ ہونا
زندگی کیا ہے ترے فتنۂ قامت کا ظہور
موت کیا ہے ترے وعدوں پہ بھروسا ہونا
بس ذرا زخم محبت کی کسک ہے ورنہ
مجھ کو یکساں ہے یہاں تیرا نہ ہونا ہونا
میں ترے وصل دل آویز کا طالب ہی نہیں
راس آتا ہے مجھے اب مرا تنہا ہونا
ایک بیمار بھی تجھ سے نہ شفایاب ہوا
جانے کس کام کا ہے تیرا مسیحا ہونا
سانحے اور بھی اس عہد کے ہوں گے لیکن
ہائے مجھ جیسے جواں سال کا بوڑھا ہونا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.