وحشت میں جس قدر ہوا نقصان یاد ہے
وحشت میں جس قدر ہوا نقصان یاد ہے
زنجیر حفظ ہے مجھے زندان یاد ہے
کس امتحاں کے واسطے بھیجا گیا تجھے
کچھ بات تجھ کو اے دل نادان یاد ہے
ہیں یاد مجھ کو دشت جنوں کی ریاضتیں
کیا ذائقہ تھا ہجر کے دوران یاد ہے
دنیا کے رنج و غم سے وہ کیسے نڈھال ہوں
جن طالبوں کو فقر کی گردان یاد ہے
بھولا نہیں ہوں منظر روز الست میں
جامیؔ مجھے وہ نقشہ و میدان یاد ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.