گلیوں میں ہواؤں کے سسکنے کی صدا ہے
گلیوں میں ہواؤں کے سسکنے کی صدا ہے
طوفاں تو تھما شہر مگر گونج رہا ہے
اس تیرگیٔ وحشت و آسیب زدہ میں
تارا کوئی ٹوٹا ہے تو دل کانپ گیا ہے
کھو جاؤ گے نکلو گے اگر اس کی طلب میں
یہ پھول جو اس وقت نگاہوں میں کھلا ہے
احساس شکست ابھرا ہے یا تیرا تصور
یادوں کے جھروکے سے کوئی جھانک رہا ہے
ٹوٹی ہے کوئی آس تو انبوہ خیالات
خاورؔ سر دروازۂ دل ٹوٹ پڑا ہے
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.