صبح کرتے ہیں شام کرتے ہیں
صبح کرتے ہیں شام کرتے ہیں
جھک کے اس کو سلام کرتے ہیں
پیار سے بات جب کرے کوئی
زندگی اس کے نام کرتے ہیں
کرتے ہیں جان و دل سے ہم خدمت
جیسے سارے غلام کرتے ہیں
مشکلیں بے شمار ہوتی ہیں
راہ میں جو قیام کرتے ہیں
روٹھے لوگوں کو ہم مناتے ہیں
نت نیا ہم یہ کام کرتے ہیں
دید کرنے کی جو کرے خواہش
نام اس کے ہی شام کرتے ہیں
چار سو نفرتیں ہیں اب قیصرؔ
ہم محبت کو عام کرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.